روزہ کے مفسدات و مکروهات

رمضان اور قضا روزوں کے دوران حیض کا آنا

فتوی نمبر :
2316
عبادات / روزہ و رمضان / روزہ کے مفسدات و مکروهات

رمضان اور قضا روزوں کے دوران حیض کا آنا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
اگر کسی عورت کو رمضان کے روزے کے دوران یا قضا روزے کے دوران حیض آجائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی عورت کو روزے کی حالت میں مغرب سے پہلے کسی بھی وقت حیض آجائے تو اس کا روزہ فاسد ہوجاتا ہے، خواہ حیض افطار سے بالکل پہلے ہی کیوں نہ آیا ہو، ایسے روزے کی بعد میں قضا لازم ہے، نفاس کا حکم بھی یہی ہے۔
اسی طرح اگر قضا روزہ رکھتے ہوئے دن میں کسی بھی وقت حیض آجائے تو شرعاً وہ قضا روزہ مکمل نہیں ہوا، اس لیے وہ بدستور ذمہ میں باقی رہے گا، جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو دوبارہ قضا روزہ رکھے گی۔

حوالہ جات

*حاشية الطحطاوي:(678/1،ط:دار الكتب العلمية)*
وأما في حالة تحقق الحيض والنفاس فيحرم الإمساك لأن الصوم منهما حرام والتشبه بالحرام حرام.

*الهداية:(99/4،ط:دار الكتب العلمية)*
وإذا حاضت المرأة، أو نفست أفطرت وقضت، بخلاف الصلاة؛ لأنها تحرج في قضائها.

*بدائع الصنائع:(95/5،ط:دار الكتب العلمية)*
وما أوجبه الله - تعالى عز شأنه - على عباده ابتداء لا يسقط عنه إلا بالأداء أو بالقضاء .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
22
فتوی نمبر 2316کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --