روزہ کے مفسدات و مکروهات

روزے کی حالت میں منہ میں گرد وغبار جانا

فتوی نمبر :
2338
عبادات / روزہ و رمضان / روزہ کے مفسدات و مکروهات

روزے کی حالت میں منہ میں گرد وغبار جانا

مفتی صاحب !
رمضان میں ہم کام کے لیے جاتے ہیں راستے میں گرد وغبار منہ میں چلی جاتی ہے،کیا اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

روزے کی حالت میں اگر دھول، مٹی یا گرد و غبار ہوا کے ذریعے اڑ کر بلا اختیار منہ میں چلی جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیونکہ یہ ایسی چیزیں نہیں ہیں جن کا کھانا مقصود ہو ۔

حوالہ جات

*الدرالمختار :(395/2،ط: دارالفكر)*
(أو دخل حلقه غبار أو ذباب أو دخان) ولو ذاكرا استحسانا لعدم إمكان التحرز عنه، ومفاده أنه لو أدخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عودا أو عنبرا له ذاكرا لإمكان التحرز عنه فليتنبه له كما بسطه الشرنبلالي.

*كنز الدقائق:(221/1،ط:دار السراج)*
فإن أكل الصّائم أو شرب أو جامع ناسيًا أو احتلم أو أنزل بنظرٍ أو ادّهن أو احتجم أو اكتحل أو قبّل أو دخل حلقه غبارٌ أو ذبابٌ وهو ذاكرٌ لصومه أو أكل ما بين أسنانه أو قاء وعاد لم يفطر.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
11
فتوی نمبر 2338کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --