روزہ کے مفسدات و مکروهات

روزے کی حالت میں ٹوتھ برش کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2326
عبادات / روزہ و رمضان / روزہ کے مفسدات و مکروهات

روزے کی حالت میں ٹوتھ برش کرنے کا حکم

مفتی صاحب !
کیا روزے کی حالت میں ٹوتھ برش کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

روزے کی حالت میں کسی بھی وقت مسواک استعمال کرنا سنت ہے، اس میں اجر و ثواب بھی ہے اور اس سے روزہ پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا، البتہ روزے کے دوران ٹوتھ پیسٹ یا ٹوتھ پاؤڈر استعمال کرنا، حلق میں اس کے اثرات جانے کے اندیشے کی وجہ سے مکروہ ہے۔
اگر ٹوتھ پیسٹ یا پاؤڈر کے ذرات حلق میں چلے جائیں تو روزہ فاسد ہو جائے گا، اس لیے بہتر یہی ہے کہ ٹوتھ پیسٹ صبحِ صادق سے پہلے استعمال کرلیا جائے اور روزے کے دوران مسواک پر اکتفا کیا جائے۔

حوالہ جات

*الهندية:(199/1،ط: دارالفكر)*
ولا بأس بالسواك الرطب واليابس في الغداة والعشي عندنا قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يكره المبلول بالماء، وفي ظاهر الرواية لا بأس بذلك، وأما الرطب الأخضر فلا بأس به عند الكل كذا في فتاوى قاضي خان، ولا يكره كحل، ولا دهن شارب كذا في الكنز. هذا إذا لم يقصد الزينة فإن قصدها كره كذا في النهر الفائق، ولا فرق بين أن يكون مفطرا أو صائما كذا في التبيين.

*المحيط البرهاني:(389/2،ط:دار الكتب العلمية)*
قال في «الأصل»: ويكره للصائم أن يذوق شيئًا بلسانه، ومن أصحابنا من قال: هذا في صوم الفرض، أما في صوم التطوع لا يكره في صوم شمس الأئمة، ومنهم من قال: في صوم الفرض إنما يكره إذا كان له بد أما إذا لم يكن بد بأن احتاج إلى شراء شيء مأكول، وخاف أنه لو لم يذق يغبن فيه، أو لا يوافقه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
29
فتوی نمبر 2326کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --