السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! اگر روزے کی حالت میں کسی کو قے یعنی الٹی آ جائے تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
واضح رہے کہ روزے کی حالت میں قے آنے کے مختلف صورتیں ہیں۔ ١) اگر روزے دار کو خود بخود قے ہو، خواہ وہ کم ہو یا منہ بھر کر ہو تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ ٢) اسی طرح اگر کوئی قصدًا قے کرے، مگر وہ منہ بھر کر نہ ہو، تب بھی روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ ٣) اگر کوئی جان بوجھ کر قے کرے اور وہ منہ بھر کر نہ ہو تو ایسی صورت میں روزہ فاسد ہو جاتا ہے اور اس کی قضا لازم ہوگی۔ ٤) اسی طرح اگر منہ بھر کر قے ہوئی اور روزہ یاد ہونے کی حالت میں قے یا اس میں سے چنے کے برابر یا اس سے زیادہ مقدار کو جان بوجھ کر دوبارہ اندر نگل لیا تو اس سے بھی روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔
*كنز الدقائق:(221/1،ط:دار السراج)* أو قاء وعاد لم يفطر،وإن أعاده أو استقاء أو ابتلع حصاةً أو حديدًا قضى فقط. *تبيين الحقائق:(325/1،ط:دار الكتاب الإسلامي)* قال - رحمه الله - (وإن أعاده أو استقاء أو ابتلع حصاة أو حديدا قضى فقط) أي إن أعاد القيء أو قاء عامدا إلى آخره يجب عليه القضاء لا غير أي لا تجب عليه الكفارة أما إعادة القيء والاستقاءة فالجملة فيه أنه لا يخلو إما إن قاء عمدا أو ذرعه القيء وكل واحد منهما لا يخلو إما أن يكون ملء الفم أو لا يكون وكل واحد من هذه الأقسام لا يخلو إما أن عاد هو بنفسه أو أعاده أو خرج ولم يعده ولا عاد هو بنفسه فإن ذرعه القيء وخرج لا يفطره قل أو كثر لإطلاق ما روينا وإن عاد هو بنفسه وهو ذاكر للصوم إن كان ملء الفم فسد صومه عند أبي يوسف لأنه خارج حتى انتقضت به الطهارة وقد دخل وعند محمد لا يفسده وهو الصحيح لأنه لم يوجد منه صورة الفطر وهو الابتلاع.