السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! سوال یہ پوچھنا ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد وقفہ کرنے کے لیے جو سب سے بہتر طریقہ ہے وہ کیا ہے کہ اگر سال کے لیے یا دو سال کے لیے یہ بچہ بڑا ہو جائے سنبھالنا مشکل ہو رہا ہو اور وقفے کی ضرورت محسوس ہو تو کس طریقے سے وقفہ کرنا چاہیے ؟ جو سب سے بہتر طریقہ ہو انجکشن استعمال کرنا یا ڈیبیٹ استعمال کرنا یا کنڈوم استعمال کرنا ان میں سب سے بہتر طریقہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں اولاد کی کثرت کو پسند کیا گیا ہے اور بلا کسی شرعی عذر کے مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنا ناپسندیدہ عمل ہے، لیکن اگر عورت کمزور ہو اور اس کی صحت حمل کی متحمل نہ ہو، یا بچے ابھی چھوٹے ہوں اور ان کی مناسب پرورش میں دشواری پیش آ رہی ہو تو ایسی صورت میں وقتی طور پر مانعِ حمل تدابیر (جیسے کنڈوم وغیرہ) اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔ البتہ ہر فرد کی صحت، جسمانی حالت اور طرزِ زندگی مختلف ہوتا ہے، اس لیے یہ معاملہ طبی نوعیت کا ہے، لہٰذا اس بارے میں رہنمائی کے لیے کسی مستند اور ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
*سنن النسائي(6/ 124دار الرسالة العالمية)* 3227 - أخبرنا عبد الرحمن بن خالد قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا المستلم بن سعيد، عن منصور بن زاذان، عن معاوية بن قرة عن معقل بن يسار قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني أصبت امرأة ذات حسب ومنصب، إلا أنها لا تلد، أفأتزوجها؟ فنهاه، ثم أتاه الثانية، فنهاه، ثم أتاه الثالثة، فنهاه فقال: "تزوجوا الولود الودود، فإني مكاثر بكم. *مرقاة المفاتيح: (5/ 2090،ط:دارالفكر)* 3184 - وعنه قال: «كنا نعزل والقرآن ينزل» . متفق عليه. وزاد مسلم: «فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فلم ينهنا . 3184 - (وعنه) أي: عن جابر رضي الله عنه (قال: كنا نعزل) العزل هو إخراج الرجل ذكره من الفرج قبل أن ينزل (والقرآن ينزل) جملة حالية يعني ولم يمنعنا والله تعالى عالم بأحوالنا فيكون كالتقدير لأفعالنا (متفق عليه وزاد مسلم فبلغ ذلك) أي: العزل (النبي صلى الله عليه وسلم فلم ينهنا) أي: النبي صلى الله عليه وسلم وقال الطيبي رحمه الله: فلم ينهنا عن ذلك الوحي ولا السنة. قال ابن الهمام: العزل جائز عند عامة العلماء، وكرهه قوم من الصحابة وغيرهم، والصحيح الجواز. قال النووي: العزل هو أن يجامع فإذا قارب الإنزال نزع، وأنزل خارج الفرج، وهو مكروه عندنا لأنه طريق إلى قطع النسل ولهذا ورد " العزل الوأد الخفي " قال أصحابنا: لا يحرم في المملوكة ولا في زوجته الأمة سواء رضيا أم لا؟ لأن عليه ضررا في مملوكته بأن يصيرها أم ولد ولا يجوز بيعها، وفي زوجته الرقيقة بمصير ولده رقيقا تبعا لأمه، أما زوجته الحرة فإن أذنت فيه فلا يحرم وإلا فوجهان أصحهما لا يحرم. *الشامية: (3/ 175،ط:دارالفكر)* (ويعزل عن الحرة) وكذا المكاتبة نهر بحثا (بإذنها) لكن في الخانية أنه يباح في زماننا لفساده. (قوله قال الكمال) عبارته: وفي الفتاوى إن خاف من الولد السوء في الحرة يسعه العزل بغير رضاها لفساد الزمان، فليعتبر مثله من الأعذار مسقطا لإذنها.