مفتی صاحب ! تکبیر اولیٰ میں شامل ہونے کا ثواب کب تک مل سکتا ہے ؟رکوع سے پہلے تک ؟یا رکوع کے بعد بھی مل سکتا ہے یا شروع تکبیر میں موجود ہونا ضروری ہے؟
جو شخص امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ میں شریک ہو بالاتفاق اسے تکبیر اولیٰ کا ثواب مل جائے گا، البتہ اس کے بعد شامل ہونے کی صورت میں بھی وسعت دی گئی ہے: (1) ثناء سے پہلے پہلے شریک ہو جائے۔ (2) سورۂ فاتحہ کے نصف سے پہلے امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔ (3) سورۂ فاتحہ کے ختم ہونے تک شامل ہو جائے۔ (4) پہلی رکعت کے رکوع سے پہلے شامل ہوجائے ،یہ قول راجح قرار دیا گیا ہے، لہذا جو شخص پہلی رکعت کے رکوع سے پہلے تک امام کے ساتھ شریک ہوجائے تو اس کو بھی تکبیر اولیٰ کا ثواب مل جائے گا۔
*حاشية الطحطاوي:(258/1،ط:دار الكتب العلمية)* واختلف في إدراك فضل التحريمة على قولهما فقيل إلى الثناء كما في الحقائق وقيل إلى نصف الفاتحة كما في النظم وقيل في الفاتحة كلها وهو المختار كما في الخلاصة وقيل إلى الركعة الأولى وهو الصحيح كما في المضمرات.