السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! امید ہے خیر و عافیت سے ہوں گے ایک مسئلہ کے بارے میں معلومات کرنی تھی کہ ایک مولانا نے نکاح کے دوران ولی سے پشتو میں اس طرح کے الفاظ کے ساتھ اجازت لی کہ ( حوالہ کڑے وا حوالہ مے کڑا)کیا اس طرح کے الفاظ سے نکاح ہو جاتا ہے ۔ جبکہ دوسرے مولنا صاحب کا کہنا ہے کہ اس طرح کے الفاظ سے نکاح نہیں ہوتا، کیونکہ اسمیں تملیک کا معنی نہیں۔
واضح رہے کہ نکاح ایسے الفاظ سے منعقد ہوتا ہے، جو صراحتاً یا کنایۃً نکاح یا ملکیت پر دلالت کریں، صریح الفاظ وہ ہیں، جن میں نکاح کا واضح ذکر ہو،جیسے "میں نے نکاح میں دیا" اور "میں نے قبول کیا"، ان الفاظ کے ذریعے ایجاب و قبول جس مجلس میں بھی ہو، شرعاً نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ نکاح میں عرف کا بھی اعتبار کیا جاتا ہے، جو الفاظ کسی معاشرے اور عرف میں نکاح کے لیے رائج ہوں، ان کے ذریعے بھی نکاح درست ہو جاتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر استعمال کیے گئے الفاظ عرف میں نکاح کے معنی میں سمجھے جاتے ہوں تو شرعاً نکاح منعقد ہو جائے گا۔
*الدرالمختارمع رد المحتار:(3/ 9،ط:دارالفكر)* (وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر (وضعا للمضي) لأن الماضي أدل على التحقيق (كزوجت) نفسي أو بنتي أو موكلتي منك (و) يقول الآخر (تزوجت، و) ينعقد أيضا (بما) أي بلفظين (وضع أحدهما له) للمضي (والآخر للاستقبال) أو للحال، فالأول الأمر (كزوجني) أو زوجيني نفسك أو كوني امرأتي فإنه ليس بإيجاب بل هو توكيل ضمني (فإذا قال) في المجلس (زوجت) أو قبلت أو بالسمع والطاعة بزازية قام مقام الطرفين وقيل هو إيجاب ورجحه في البحر والثاني المضارع المبدوء بهمزة أو نون أو تاء كتزوجيني نفسك إذا لم ينو الاستقبال *أيضاً:(88/5،ط: دارالفكر)* والعرف في الشرع له اعتبار ... لذا عليه الحكم قد يدار. . *الهندية:(270/1،ط: دارالفكر)* (وما ينعقد به النكاح فهو نوعان) صريح وكناية فالصريح لفظ النكاح والتزويج، وما عداهما وهو ما يفيد ملك العين في الحال كناية، كذا في النهر الفائق ناقلا عن المبسوط فينعقد بلفظ الهبة هكذا في الهداية ولو قالت: وهبت نفسي منك فقال الرجل: أخذت قالوا: لا يكون نكاحا، كذا في فتاوى قاضي خان. ولو قال: وهبت بنتي لخدمتك وقبل الآخر؛ لا يكون نكاحا *أيضا:(270/1،ط: دارالفكر)* فينعقد بلفظ الهبة هكذا في الهداية ولو قالت: وهبت نفسي منك فقال الرجل: أخذت قالوا: لا يكون نكاحا، كذا في فتاوى قاضي خان. ....وينعقد بلفظ التمليك والصدقة وبلفظ البيع هو الصحيح هكذا في الهداية وكذا بلفظ الشراء في الصحيح هكذا في فتاوى قاضي خان وكذا بلفظ الجعل على الصحيح في العيني شرح الكنز والتبيين.