مفتی صاحب ! بڑھاپے میں شادی کا کیا حکم ہے کیا شادی کرنا صحیح ہے؟ بعض دفعہ لوگ برا بھلا کہتے ہیں
واضح رہے کہ شرعاً نکاح کے لیے عمر کی کوئی خاص حد مقرر نہیں ہے، انسان عمر کے جس حصے میں چاہے نکاح کرسکتا ہے، بشرطیکہ وہ بیوی کا مہر، نان و نفقہ اور دیگر حقوقِ زوجیت ادا کرنے کی قدرت رکھتا ہو۔ البتہ اگر کوئی شخص بڑھاپے یا کسی اور وجہ سے حقوقِ زوجیت اور بیوی کی جنسی ضروریات پوری کرنے پر قادر نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کے لیے عورت سے نکاح کرنا درست نہیں، کیونکہ نکاح کے اہم مقاصد میں سے ایک جنسی خواہش کی جائز تکمیل بھی ہے، لہٰذا اگر عورت کی یہ ضرورت پوری نہ ہو تو اس کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔
*القرآن الکریم:(النساء3:4)* ﴿وَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تُقۡسِطُواْ فِي ٱلۡيَتَٰمَىٰ فَٱنكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثۡنَىٰ وَثُلَٰثَ وَرُبَٰعَۖ فَإِنۡ خِفۡتُمۡ أَلَّا تَعۡدِلُواْ فَوَٰحِدَةً أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُكُمۡۚ ذَٰلِكَ أَدۡنَىٰٓ أَلَّا تَعُولُواْ ٣ وَءَاتُواْ ٱلنِّسَآءَ صَدُقَٰتِهِنَّ نِحۡلَةٗۚ فَإِن طِبۡنَ لَكُمۡ عَن شَيۡءٖ مِّنۡهُ نَفۡسٗا فَكُلُوهُ هَنِيٓـٔٗا مَّرِيٓـٔٗا ٤﴾ *الشامية: (3/ 7،ط:دارالفكر)* (قوله: ومكروها) أي تحريما بحر (قوله: فإن تيقنه) أي تيقن الجور حرم؛ لأن النكاح إنما شرع لمصلحة تحصين النفس، وتحصيل الثواب، وبالجور يأثم ويرتكب المحرمات فتنعدم المصالح لرجحان هذه المفاسد بحر. *ایضاً :(3/ 9)* «ولا يزوج ابنته الشابة شيخا كبيرا ولا رجلا دميما ويزوجها كفؤا،