السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! کیا استنجا میں پانی کا استعمال ضروری ہے یا پتھر سے بھی استنجا ہو جاتا ہے؟
اگر نجاست اپنی اصل جگہ سے پھیلاؤ میں ایک درہم (تقریباً ہتھیلی کے پھیلاؤ کے برابر مقدار) سے کم ہو تو اس صورت میں ٹشو پیپر، پتھر یا ڈھیلے سے اچھی طرح صفائی کر لینا کافی ہے، اس کے بعد وضو کر کے نماز ادا کی جا سکتی ہے، پانی سے دھونا لازم نہیں، البتہ پانی استعمال کر لینا بہتر ہے۔ اگر نجاست ایک درہم کے بقدر یا اس سے زیادہ پھیل جائے تو پانی سے دھونا ضروری ہے، صرف ٹشو، پتھر یا ڈھیلے سے صفائی کافی نہیں ہوگی ۔
*الهندية:(48/1،ط: دارالفكر)* والاستنجاء بالماء أفضل إن أمكنه ذلك من غير كشف العورة وإن احتاج إلى كشف العورة يستنجي بالحجر ولا يستنجي بالماء. كذا في فتاوى قاضي خان والأفضل أن يجمع بينهما. كذا في التبيين قيل هو سنة في زماننا وقيل على الإطلاق وهو الصحيح وعليه الفتوى. كذا في السراج الوهاج. ثم الاستنجاء بالأحجار إنما يجوز إذا اقتصرت النجاسة على موضع الحدث فأما إذا تعدت موضعها بأن جاوزت الشرج أجمعوا على أن ما جاوز موضع الشرج من النجاسة إذا كانت أكثر من قدر الدرهم يفترض غسلها بالماء ولا يكفيها الإزالة بالأحجار. *الاختيار لتعليل المختار:(36/1،ط:دار الكتب العلمية)* والاستنجاء سنة من كل ما يخرج من السبيلين إلا الريح، ويجوز بالحجر وما يقوم مقامه (ف) يمسحه حتى ينقيه، والغسل أفضل، وإذا تعدت النجاسة المخرج لم يجز إلا الغسل.