السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! اگر پانی میں کچھ بدبو ہو، لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ اس میں کوئی ناپاک چیز گری ہے ،یا نہیں تو پانی کا کیا حکم ہے؟
اگر پانی میں کسی ناپاک چیز کے ملنے کا یقینی علم نہ ہو تو محض بدبو کی وجہ سے اسے ناپاک قرار نہیں دیا جا سکتا، اس سے وضو و غسل کرنا جائز ہے، البتہ اگر صاف اور بہتر پانی موجود ہو تو بدبودار پانی استعمال کرنا مکروہ ہے۔
*الدرالمختار:(186/1،ط: دارالفكر)* (لا لو تغير) بطول (مكث) فلو علم نتنه بنجاسة لم يجز، ولو شك فالأصل الطهارة والتوضؤ من الحوض أفضل من النهر رغما للمعتزلة. *الشامية:(186/1،ط: دارالفكر)* (قوله: لا لو تغير إلخ) أي لا ينجس لو تغير فهو عطف على قوله وينجس لا على قوله بموت فتأمل ممعنا. (قوله: فلو علم إلخ) صرح به لزيادة التوضيح وإلا فهو داخل تحت قول المصنف وبتغير أحد أوصافه بنجس.