السلام علیکم محترم ! ہمارا فریج اور اے سی کی خرید وفروخت کا کام ہے ، اکثر اس طرح ہوتا ہے کہ کوئی ہمیں فون کرتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں جگہ اے سی ہے، انہوں نے بیچنا ہے اور وہ ہمیں ایڈریس یا نمبر دے دیتا ہے اور کہتا ہے میرا کمیشن رکھ لینا۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کو کمیشن دینا صحیح ہے یا نہیں ؟ براہ کرم راہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ اگر ایجنٹ (دلال)کا کام صرف دونوں پارٹیوں کو آپس میں ملانا ہے، باقی سودا وہ خود کرتے ہیں اور ایجنٹ کسی ایک فریق کا وکیل نہیں ہے تو ایسی صورت میں ایجنٹ دونوں پارٹیوں سے طے شدہ کمیشن لے سکتا ہے، لیکن اگر ایجنٹ کسی ایک پارٹی کا وکیل ہے تو اس صورت میں ایجنٹ صرف اسی پارٹی سے کمیشن وصول کر سکتا ہے جس نے اس کو وکیل بنایا ہے، البتہ فریقین کے ہاں ایجنٹ کا کمیشن معلوم اور متعین ہونا ضروری ہے، بغیر بتائے کمیشن لینا شرعاً درست نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں مذکور شخص کو کمیشن دینا درست ہے ۔
*الفقه الاسلامی و ادلته: (2997/4، ط: دار الفکر)* تصح الوكالة بأجر، وبغير أجر، لأن النبي صلّى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات، ويجعل لهم عمولة. فإذا تمت الوكالة بأجر، لزم العقد، ويكون للوكيل حكم الأجير. *مجلة الاحکام العدلیة: (88/1، ط: نور محمد)* (المادة 464) بدل الإجارة يكون معلوما بتعيين مقداره إن كان نقدا كثمن المبيع. *الدر المختار مع رد المحتار: (560/4، ط:دارالفکر)* وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية. (قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين.