السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! اگر کوئی شخص کسی کے خلاف گواہ ہو اور وہ اس ڈر کی وجہ سے گواہی نہ دے کہ وہ مجھ سے جھگڑا کرے گا تو کیا اس میں کوئی گناہ تو نہیں ؟ اور اس طرح کرنا جائز ہے؟
اگر کسی شخص کو کسی معاملے کی مکمل اور درست معلومات حاصل ہوں اور اسے یقین ہو کہ یہ فلاں شخص کا حق ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ سچی گواہی دے، حق بات کو چھپانا، ناراضگی یا خوف کی وجہ سے گواہی دینے سے انکار کرنا جائز نہیں۔
*القرآن الکریم:(النساء:135:4)* يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَى بِهِمَا فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَى أَنْ تَعْدِلُوا وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا. *الدرالمختار:(461/5،ط: دارالفكر)* وسبب وجوبها طلب ذي الحق أو خوف فوت حقه بأن لم يعلم بها ذو الحق وخاف فوته لزمه أن يشهد بلا طلب فتح. *الشامية:(462/5،ط: دارالفكر)* (قوله بلا طلب) نظر فيه المقدسي بأن الواجب في هذا إعلام المدعي بما يشهد فإن طلب وجب عليه أن يشهد وإلا لا إذ يحتمل أنه ترك حقه.