مفتی صاحب ! اگر کسی شخص نے ایک دفعہ گواہی میں جھوٹ بولا ہو اور اس کو کسی معاملے میں دوبارہ گواہ بنایا جائے تو کیا اس کی گواہی معتبر ہوگی؟
جھوٹی گواہی دینا اسلام میں بڑا گناہ ہے، اگر کسی شخص کے بارے میں عدالت میں یہ ثابت ہوجائے کہ اس نے جھوٹی گواہی دی ہے تو وہ شخص مشکوک ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی گواہی پر اعتماد باقی نہیں رہتا، اسی لیے ایسے شخص کی گواہی قبول کرنا ضروری نہیں ہوتا، البتہ اگر حالات، شواہد اور قرائن سے یہ واضح ہوجائے کہ وہ اس موقع پر سچ کہہ رہا ہے تو قاضی کو اس کی بات قبول کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
*الشامية:(466/5،ط: دارالفكر)* وأما شهادة الفاسق، فإن تحرى القاضي الصدق في شهادته تقبل وإلا فلا اهـ فتال: وفي الفتاوى القاعدية: هذا إذا غلب على ظنه صدقه وهو مما يحفظ درر أول كتاب القضاء، وظاهر قوله وهو مما يحفظ اعتماده اهـ. *البحر الرائق:(63/7،ط:دار الكتاب الإسلامي)* (قوله لو قضى القاضي بشهادة الفاسق صح عندنا) قال الرملي وفي جامع الفتاوى وأما شهادة الفاسق فإن تحرى القاضي الصدق في شهادته تقبل وإلا فلا.