مفتی صاحب! اس دور میں غسل خانے اور باتھ روم ایک ساتھ ہوتے ہیں تو کیا ان غسل خانوں میں کپڑے بدلنے اور آئینہ دیکھنے کی دعائیں پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
واضح رہے کہ ایسے غسل خانے اور باتھ روم کہ جن کے درمیان کوئی دیوار حائل نہ ہو تو وہ حقیقت میں ایک ہی شمار ہوتے ہیں، لہذا ایسے غسل خانوں میں مسنون دعائے پڑھنا جائز نہیں ہے۔
*الدر المختار:(1/ 156،ط:دارالفکر)* ويستحب أن لا يتكلم بكلام مطلقا، أما كلام الناس فلكراهته حال الكشف، وأما الدعاء فلأنه في مصب المستعمل ومحل الأقذار والأوحال اهـ *مراقي الفلاح: (47،ط:المكتبة العصرية)* ويستحب أن لا يتكلم بكلام معه ولو دعاء لأنه في مصب الأقذار.