السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب ہمارے ہاں ایک آدمی ہے اس کی شیعہ لوگوں کے ساتھ دوستی ہے وہ ان کے ساتھ شیعہ کی مجلسوں میں بھی شریک ہوتا تھا اور ماتم بھی کرتا تھا،لیکن اسے شیعہ عقائد کے حوالے سے کچھ معلوم نہیں گھر والوں کے سمجھانے پر اس نے باقاعدہ قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر آئندہ ایسی مجلسوں میں نہ جانے اور ماتم نہ کرنے پر حلف اٹھا لیا اور اپنا سنی ہونے کا اقرار کیا جس کے بعد اس نے نماز روزہ بھی شروع کر دی بعد ازاں اس کی ایک سنی گھرانے میں شادی ہو گئی اب اس نے اپنے شیعہ دوستوں کے ساتھ مل کر ایک مجلس میں پھر ماتم کیا ہے جس کی باقاعدہ ویڈیو بنی ہے،لیکن پوچھنے پر وہ کہتا ہے کہ میرا شیعہ عقائد کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔میں سنی ہوں مسلمان ہوں تو آیا اب اس صورت حال میں نکاح باقی رہے گا یا نہیں، جبکہ اس نے پہلے ماتم وغیرہ نہ کرنے کا حلف بھی اٹھا رکھا تھا برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینہ کوبی، چہرے کو پیٹنے، گریبان چاک کرنے، نوحہ اور ماتم کرنے کو زمانہ جاہلیت کے رسم و رواج سےتعبیر کیا ہے اور اس کام کو لعنت کا باعث، بلکہ کفر تک پہنچا دینے والا کہا ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’دو چیزیں ایسی ہیں جو کفر ہیں: ایک تو نسب میں طعنہ دینا اور دوسرا میت پر نوحہ کرنا۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ وہ ہم میں سے نہیں، جو (مصیبت کے وقت) چہرے کو پیٹے، گریبان کو پھاڑے اور جاہلیت جیسا واویلا اور نوحہ کرے۔‘‘ اس کے علاوہ کئی احادیث مبارکہ میں واضح طور پر مصیبت کے وقت نوحہ کرنے، چیخنے چلانے، واویلا کرنے، جاہلیت جیسی باتیں کرنے، گریبان اور کپڑے پھاڑنے، چہرہ پیٹنے، چہرہ نوچنے اور ماتم کرنے جیسے، تمام غیر شرعی کاموں کی شدید مذمت اور ان سے متعلق سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں، اس لیے ایک مسلمان کو ان غیر شرعی کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے،تاہم اگر عقیدہ مسلمانوں کا ہے،تو اس سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔
صحيح مسلم:(رقم الحديث:121-(67)،دار طوق النجاة) عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « اثنتان في الناس هما بهم كفر: الطعن في النسب، والنياحة على الميت. صحيح البخاري:(رقم الحديث:1294) عن عبد الله رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من لطم الخدود، وشق الجيوب، ودعا بدعوى الجاهلية.