السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بینک کے سودی پیسوں کے ذریعے کار (گاڑی) خریدنا یا گھر کا سامان خریدنا کیسا ہے؟
سود قطعی طور پر حرام ہے، سودی آمدنی کو اپنی ضروریات میں استعمال کرنا اور اس سے نفع حاصل کرنا ناجائز ہے، بلکہ اسے بغیر نیتِ ثواب کے صدقہ کرنا لازم ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں سودی بینک سے حاصل ہونے والی سودی آمدنی سے گاڑی یا گھر کا سامان خریدنا شرعاً جائز نہیں۔
القرآن الكريم: [البقرة: 278-279] يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ 278 فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِ. ایضاً: [المائدة: 2] وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ. صحيح مسلم: (رقم الحديث: 106 - (1598)، ط: دار طوق النجاة) عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء.