آمدنی و مصارف

قرض پر اضافی مال وصول کرنا

فتوی نمبر :
581
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

قرض پر اضافی مال وصول کرنا

زید نے عمرو کو کئی سال پہلے کچھ رقم قرض دی تھی اب جب عمرو قرض کی رقم واپس کر رہا ہے تو زید اس سے زیادتی کا مطالبہ کر رہا ہے زید یہ کہتاہے کہ جس وقت میں نے یہ رقم آپ کو دی تھی اس وقت ان پیسوں کی ویلیو زیادہ تھی اور اب کم ہے ، لہذا مجھے اس زمانے کے ویلیو کے اعتبار سے پیسے دو ۔
مفتی صاحب ! کیا زید کا یہ مطالبہ درست ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کئی سال پہلے جتنا قرض لیا تھا اتنا ہی واپس کرنا ہوگا زیادتی کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں ہے پیسوں میں ویلیو کاکوئی اعتبار نہیں ہوگا ۔

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الأبصار :(ص429، ط : دارالفكر )
(‌عقد ‌مخصوص يرد على دفع مال مثلى)

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: (1/ 279، ط:دارالمعرفة )
(سئل) في ‌رجل ‌استقرض من آخر مبلغا من الدراهم وتصرف بها ثم غلا سعرها فهل عليه رد مثلها؟ (الجواب) : نعم ولا ينظر إلى غلاء الدراهم ورخصها .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
84
فتوی نمبر 581کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --