مفتی صاحب !
اگر مسافر عصر کی نماز قصر کے بجائے پوری پڑھ لے تو کیا حکم ہے؟
واضح رہےکہ مسافر کے لیے چار رکعت والی نمازوں میں قصر کرنالازم ہے، اس کے لیے مکمل چار رکعت ادا کرنا درست نہیں۔
اگرمسافر نے غلطی سے ظہر، عصر یا عشاء کی چار رکعتیں پڑھ لیں تو اگر دوسری رکعت میں قعدہ کیا تھا اور سلام کے بعد سجدۂ سہو بھی کرلیا تو نماز ادا ہوگئی،لیکن اگر سجدۂ سہو نہیں کیا تو وقت کے اندر دوبارہ پڑھنا ضروری ہوگا اور وقت نکل جانے کے بعد دوبارہ پڑھ لینا بہتر ہے۔
لیکن اگر دوسری رکعت میں قعدہ ہی نہ کیا ہو تو فرض نماز بالکل ادا نہیں ہوئی، اس کا اعادہ(دوبارہ پڑھنا) واجب ہوگا۔
*الشامية:(2/ 128،ط:دارالفكر)*
(فلو أتم مسافر إن قعد في) القعدة (الأولى تم فرضه و) لكنه (أساء) لو عامدا لتأخير السلام وترك واجب القصر وواجب تكبيرة افتتاح النفل وخلط النفل بالفرض، وهذا لا يحل.
*الهندية:(1/ 139،ط:دارالفکر)*
وفرض المسافر في الرباعية ركعتان، كذا في الهداية، والقصر واجب عندنا، كذا في الخلاصة .
*فتح القدير:(2/ 31،ط:دارالفکر)*
قال (وفرض المسافر في الرباعية ركعتان) القصر في حق المسافر رخصة إسقاط عندنا، وربما عبر بعض المشايخ عنه بالعزيمة،،،،،،،،وفرضه عندنا ركعتان لا يزيد عليهما.