ذکر دعاء اور درود

"رَبِّ إِنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ" دعا میں لفظ إني کا درست اعراب

فتوی نمبر :
737
عبادات / عملیات و اذکار / ذکر دعاء اور درود

"رَبِّ إِنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ" دعا میں لفظ إني کا درست اعراب

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ ۔
مفتی صاحب! یہ پوچھنا ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام کی دعا جو کہ قرآن مجید کی آیت ہے (رَبَّهٗ أَنِّیْ مَسَنِیَ الضُّرُ وَأَنْتُ اَرْحَمُ رَّاحِمِیْنُ) یہ دعا کس طرح مانگے ؟
بعض لوگ رَبِّ إِنِّي پڑھتے ہیں، لیکن الفاظ ہیں رَبَّهٗ أَنِّی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب یہ الفاظ بطور قرآنی آیت پڑھے جائیں تو اس طرح تلاوت کیے جائیں گے: "إِذْ نَادَىٰ رَبَّهُ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ"، یعنی أنِّي کو ہمزہ کے زبر کے ساتھ پڑھا جائے گا۔ لیکن جب انہیں بطور دعا پڑھا جائے تو یوں کہا جائے گا"رَبِّ إِنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ"، یعنی إِنِّي کو ہمزہ کے زیر کے ساتھ پڑھا جائے گا۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
105
فتوی نمبر 737کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --