مسلمان کا مورتیوں کی پوجا کرنا

فتوی نمبر :
993
عقائد / /

مسلمان کا مورتیوں کی پوجا کرنا

ایک مسلمان ہے مورتیوں کی بھی پوجا کرتاہے اور مکہ مدینہ بھی جاتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اسلام میں بڑی وسعت ہے، اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
آیا یہ شخص مسلمان ہے یا مشرک؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اسلام میں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت اور بندگی کا حکم ہے، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی پوجا یا عبادت جائز نہیں، مورتیوں کی پوجا شرک ہے اور اگر کوئی مسلمان مورتیوں کی عبادت کرے تو وہ اسلام کے دائرے سے خارج ہو جاتا ہے۔
پوچھی گئی صورت میں اس شخص کا مورتیوں کی پوجا کرنا اور یہ کہنا کہ ’’اسلام میں بڑی وسعت ہے‘‘،غلط ہے، کیونکہ اسلام تو اس قسم کی مشرکانہ حرکات کو مٹانے اور صرف اللہ تعالیٰ جل شانہٗ کی توحید و عبادت کو پھیلانے کے لیے آیا ہے، لہٰذا مذکورہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہے، اس پر صدقِ دل سے توبہ و استغفار، تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح لازم ہے۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(المائدہ:72:5)*
اِنَّهٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَاْوٰيهُ النَّارُ.

*أيضا:(النساء: 48:4)*
اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ.

*صحيح البخاري:(18/6،رقم الحديث:4477،ط: دار طوق النجاة)*
حدثني عثمان بن أبي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن أبي وائل، عن عمرو بن شرحبيل، عن عبد الله قال: «سألت النبي ﷺ: أي الذنب أعظم عند الله؟ قال: أن تجعل لله ندا وهو خلقك، قلت: إن ذلك لعظيم، قلت: ثم أي؟ قال: وأن تقتل ولدك تخاف أن يطعم معك، قلت: ثم أي؟ قال: أن تزاني حليلة جارك».

*وأيضاً:(13/9،رقم الحديث: 6919،ط: دار طوق النجاة)*
إسماعيل بن إبراهيم، أخبرنا سعيد الجريري، حدثنا عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال النبي ﷺ: «أكبر الكبائر: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، وشهادة الزور، وشهادة الزور ثلاثا أو: قول الزور. فما زال يكررها حتى قلنا: ليته سكت.

*الاختيار لتعليل المختار:(4/ 150،ط: دار الكتب العلمية)*
فإن ‌من ‌سجد ‌لصنم أو تزيا بزنار أو لبس قلنسوة المجوس يحكم بكفره.

*حاشية ابن عابدين : (4/ 222،ط:دارالفكر)*
وكما لو سجد لصنم أو وضع مصحفا في قاذورة فإنه يكفر، وإن كان مصدقا لأن ذلك في حكم التكذيب، كما أفاده في شرح العقائد، وأشار إلى ذلك بقوله للاستخفاف، فإن فعل ذلك استخفاف واستهانة بالدين فهو أمارة عدم التصديق ولذا قال في المسايرة: وبالجملة فقد ضم إلى التصديق بالقلب، أو بالقلب واللسان في تحقيق الإيمان أمور الإخلال بها إخلال بالإيمان اتفاقا، كترك السجود لصنم، وقتل نبي والاستخفاف به، وبالمصحف والكعبة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
57
فتوی نمبر 993کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155