آمدنی و مصارف

مکان کے کاغذات بنوانے میں سرکاری افسران یا ایجنٹس کو اضافی رقم دینا

فتوی نمبر :
995
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

مکان کے کاغذات بنوانے میں سرکاری افسران یا ایجنٹس کو اضافی رقم دینا

السلام علیکم مفتی صاحب!
مکان یا زمین کے کاغذات بنوانے میں افسران اصل خرچ (چالان وغیرہ) جو بہت کم ہوتا ہے، مالک کو ڈرا کر زیادہ بتاتے ہیں اور اپنے سائن کرنے کے الگ پیسے بھی لیتے ہیں۔ مالک تنگ آ کر ایجنٹ کے پاس جاتا ہے، جن کی افسران سے سیٹنگ ہوتی ہے: کچھ رقم چالان میں، کچھ افسران کو، اور باقی ایجنٹ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ کبھی ایک ایجنٹ ایک لاکھ میں کام طے کرتا ہے، دوسرا نوے ہزار میں کرنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ آخرکار مالک مجبوری اور لاعلمی میں کسی بھی قیمت پر راضی ہو جاتا ہے۔
سوال:
1. کیا افسران کا اپنے سائن کے پیسے لینا اور اصل خرچ چھپا کر زیادہ لینا شرعاً جائز ہے؟
2. کیا مالک کی مجبوری و لاعلمی میں دی ہوئی رضا مندی سے یہ معاملہ حلال ہو جاتا ہے؟
3. اصل خرچ سے زائد رقم رشوت ہے یا محنت/کمیشن؟
4. اگر مالک کو بعد میں حقیقت پتا چلے تو کیا وہ اضافی رقم واپس لینے کا حق رکھتا ہے؟
جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس شخص کو جو ذمہ داری سپرد کی جائے اسے دیانتداری سے پورا کرنا چاہیے، اگر وہ ذمہ داری عوامی سطح کی ہو تو اس کے لیے رشوت وغیرہ کا مطالبہ کرنا یا اس میں جان بوجھ کر ٹال مٹول کرنا جائز نہیں۔
(1) لہذا افسران کے لیے سائن کرنے کے پیسے لینا یا اصل خرچ سے اضافی رقم لینا جائز نہیں۔

(2,3) اگر افسران کسی بھی طرح کام کرنے پر راضی نہ ہوں تو بامر مجبوری اس کام کے لیے ایجنٹ کو پیسے دینے کی گنجائش ہے، لیکن اس کے باوجود توبہ و استغفار لازم ہے، البتہ ایجنٹ بھی اصل رقم اور اپنا کمیشن بتا کر رکھ سکتا ہے، اس سے زیادہ نہیں لے سکتا، تاہم چونکہ ایجنٹس کی وجہ سے اصل کام کروانے والوں کے لیے براہ راست کام کروانا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے ایجنٹس کے لیے یہ کام کرنا اور کمیشن لینا جائز نہیں۔
(4) اگر مالک کو علم ہو جائے کہ کمیشن سے اضافی رقم لی گئی ہے تو وہ اسے واپس لینے کا حق رکھتا ہے، ایجنٹ سے اضافی رقم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔

حوالہ جات

*مرقاة المفاتیح:(295/7،ط:دارالکتب العلمیة)*
"(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»): أي: معطي الرشوة وآخذها، وهي الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه".

*الشامیة:(63/6،ط: دارالفکر)*
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجاً ينسج له ثياباً في كل سنة".

*ایضاً:(423/6)*
"دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ ".

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
65
فتوی نمبر 995کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --