رشتے کی حلت وحرمت کے حوالے سے ایک سوال:ایک شخص زید کی سگی بیٹی سے خود نکاح کرے اور اپنی سگی بیٹی زید کے نکاح میں دے کیا یہ رشتہ جائز اور درست ہے؟
واضح رہے کہ وٹہ سٹہ کی شادی کو نکاحِ شغار کہا جاتا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح دوسرے شخص سے اس شرط پر کرے کہ وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس سے کرے گا، یعنی ایک نکاح کو دوسرے نکاح کے بدلے میں رکھا جائے، ایسی صورت میں نکاح منعقد ہوجاتا ہے، تاہم اگر ایک لڑکی کا نکاح دوسری لڑکی کے نکاح کو مہر قرار دے کر کیا گیا ہو تو دونوں عورتوں کے لیے مہرِ مثل لازم ہوگا اور اگر دونوں نکاحوں میں الگ الگ مہر مقرر کیا گیا ہو تو ہر بیوی کو وہی مہر دیا جائے گا جو اس کے نکاح میں مقرر کیا گیا ہے۔
الدرالمختار:(106/3،ط: دارالفكر) (ووجب مهر المثل في الشغار) هو أن يزوجه بنته على أن يزوجه الآخر بنته أو أخته مثلا معاوضة بالعقدين وهو منهي عنه لخلوه عن المهر، فأوجبنا فيه مهر المثل فلم يبق شغارا. الشامية:(105/3،ط: دارالفكر) (قوله في الشغار) بكسر الشين مصدر شاغر اهـ ح (قوله هو أن يزوجه إلخ) قال في النهر: وهو أن يشاغر الرجل: أي يزوجه حريمته على أن يزوجه الآخر حريمته ولا مهر إلا هذا، كذا في المغرب: أي على أن يكون بضع كل صداقا عن الآخر، وهذا المقيد لا بد منه في مسمى الشغار، حتى لو لم يقل ذلك ولا معناه بل قال زوجتك بنتي على أن تزوجني بنتك فقبل أو على أن يكون بضع بنتي صداقا لبنتك فلم يقبل الآخر بل زوجه بنته ولم يجعلها صداقا لم يكن شغارا بل نكاحا صحيحا اتفاقا وإن وجب مهر المثل في الكل، لما أنه سمى ما لا يصلح صداقا، وأصل الشغور: الخلو، يقال بلدة شاغرة إذا خلت عن السكان، والمراد هنا الخلو عن المهر لأنهما بهذا الشرط كأنهما أخليا البضع عنه نهر .