حضرات مفتیان کرام کیا حال ہے امید ہے سب خیریت سے ہوں گے ! ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ اگر لڑکا لڑکی دونوں موبائل کال پر یا میسج پر تین بار قبول قبول قبول کر لیں، پھر کچھ دن گزرنے کے بعد موبائل میسج پہ ہی طلاق دے دیں۔کیا ایسے نکاح ہو جاتا ہے اگر نکاح ہو گیا تو کیا طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟ اگر مثلا طلاق ہو جاتی ہیں تو کیا وہی دونوں پھر سے نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں؟جواب تفصیل سے ارسال فرمائیں۔
واضح رہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہوں اور دو گواہ ایجاب و قبول کے الفاظ سنیں۔ اگر مرد یا عورت میں سے کوئی ایک خود مجلسِ نکاح میں موجود نہ ہو تو وہ کسی شخص کو اپنا وکیل مقرر کر سکتا ہے، جو اس کی طرف سے دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا ایجاب یا قبول کرے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مرد و عورت نے دو گواہوں کی موجودگی کے بغیر موبائل کال یا میسج پر ایک دوسرے سے ایجاب و قبول کیا ہے تو اس طرح نکاح منعقد نہیں ہوا، اگرچہ موبائل فون پر طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہو سکتی ہے، لیکن یہاں چونکہ نکاح ہی منعقد نہیں ہوا، اس لیے طلاق بھی واقع نہیں ہوئی۔
الدر مع الرد:(14/3،ط: دارالفكر) ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين. (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا. الهندية:(294/1،ط: دارالفكر) يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانية ناقلا عن خواهر زاده امرأة قالت لرجل: زوجني ممن شئت لا يملك أن يزوجها من نفسه، كذا في التجنيس والمزيد رجل وكل امرأة أن تزوجه فزوجت نفسها منه لا يجوز، كذا في محيط السرخسي وإذا وكل رجلا أن يزوجه امرأة بعينها ببدل سماه فزوجها الوكيل لنفسه بذلك البدل جاز النكاح للوكيل، كذا في المحيط. المبسوط» للسرخسي:(5/ 16،ط:دار المعرفة): فكذلك في عقد النكاح الكتاب بمنزلة الخطاب إلا أنه إذا كتب إليها فبلغها الكتاب فقالت: زوجت نفسي منه بغير محضر من الشهود لا ينعقد النكاح كما في حق الحاضر فإن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا نكاح إلا بشهود». ولو قالت بين يدي الشهود: زوجت نفسي منه لا ينعقد النكاح أيضا؛ لأن سماع الشهود كلام المتعاقدين شرط لجواز النكاح، وإنما سمعوا كلامها هنا لا كلامه.