السلام علیکم محترم ! نعمت اللہ اور صدیق اللہ آپس میں رضاعی بھائی ہے یعنی دونوں نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے، اب نعمت اللہ کی بیٹی کا نکاح صدیق اللہ کے دوسرے بھائی کے ساتھ کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ رضاعت کی وجہ سے رضاعی بھائی کے بھائی سے نکاح حرام نہیں ہوتا، بشرطیکہ اس بھائی کے ساتھ کوئی اور نسبی یا رضاعی رشتہ حرمتِ نکاح کا سبب نہ ہو، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں نعمت اللہ کی بیٹی کا نکاح صدیق اللہ کے دوسرے بھائی کے ساتھ شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی دوسری وجہ موجود نہ ہو۔
القرآن الکریم:(النساء4: 24) وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُم.الاية. سنن إبن ماجة:(119/3،رقم الحديث:1937،ط: دارالرسالة العالمية) حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حدثنا عبد الله بن نمير، عن الحجاج، عن الحكم، عن عراك بن مالك، عن عروة عن عائشة، قالت: قال رسول الله ﷺ: «يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب». الدرا لمختارمع ردالمحتار:(6/367،ط:دارالفکر) (ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا۔۔۔ (قوله أو سبب) كالرضاع والمصاهرة. الشامية:(31/3،ط: دارالفكر) (قوله: نسبا) تمييز عن نسبة تحريم للضمير المضاف إليه، وكذا قوله: مصاهرة، وقوله: رضاعا تمييز عن نسبة تحريم إلى الكل، يعني يحرم من الرضاع أصوله وفروعه وفروع أبويه وفروعهم، وكذا فروع أجداده وجداته الصلبيون، وفروع زوجته وأصولها وفروع زوجها وأصوله وحلائل أصوله وفروعه.