السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتیان کرام ! اعتکاف میں بیٹھی ہوئی عورت کیا رات کو اوپر چھت پر سوسکتی ہے جبکہ اعتکاف میں نیچے بیٹھی ہوئی ہے ؟
عورت نے گھر میں جس جگہ کو اعتکاف کے لیے مقرر کیا ہے، اس جگہ کی حیثیت معتکفہ (اعتکاف کرنے والی خاتون) کے حق میں ویسی ہی ہوگی، جیسے اعتکاف کرنے والے مرد کے حق میں مسجد کی ہوتی ہے، خاتون کے لیے شرعی یا طبعی ضرورت (مثلاً وضو، پیشاب یا پاخانے کے لیے جانا) کے بغیر اس جگہ سے نکلنے کی اجازت نہیں، اگر ان ضروریات کے علاوہ کوئی عورت اس جگہ سے نکل گئی تو اس کا اعتکاف فاسد ہو جائے گا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں گھر کی چھت پر جانے اور وہاں رات گزارنے کی اجازت نہیں، اگر ایسا کیا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔
*مجمع الأنهر:(256/1،ط:دار إحياء التراث العربي)*
والمرأة تعتكف) بإذن زوجها (في مسجد بيتها)؛ لأنه هو الموضع المعد لصلاتها فيتحقق انتظارها فيه ولا تعتكف في غير مصلاها في بيتها وإذا اعتكفت لا تخرج من مسجد بيتها كالرجل إلا لحاجة.
*ملتقي الابحر:(377/1،ط:دار الكتب العلمية)*
والمرأة تعتكف في مسجد بيتها.
*الهندیة:(211/1،ط: دارالفكر)*
والمرأة تعتكف في مسجد بيتها إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل لا تخرج منه إلا لحاجة الإنسان كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي.