السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ! سوال یہ کرنا تھا کہ اگر کوئی عورت آج کے دن عصر کے وقت پاک ہوئی ہو اور روزہ نہ رکھا ہو اور اعتکاف میں بیٹھے تو کیا اعتکاف ہو جائے گا یا اس کے لیے روزہ شرط ہے؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص سنت اعتکاف میں بیٹھنے سے پہلے کا روزہ نہ رکھ سکے تو اس کے لیے اعتکاف بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ،کیونکہ اعتکاف کے لیے اعتکاف کے دنوں کا روزہ رکھنا شرط ہے، اس سے پہلے کے روزے رکھنا شرط نہیں ،لہذا پوچھی گئی صورت میں حائضہ عورت کا عصر میں حیض سے پاک ہونے کے بعد اعتکاف میں بیٹھنا درست ہے ۔
*الشامية:(152/1،ط:دارالفكر)* (وسنة مؤكدة في العشر الاخير من رمضان) أي سنة كفاية كما في البرهان وغيره لاقترانها بعدم الانكار على من لم يفعله من الصحابة (مستحب في غيره من الازمنة) هو بمعنى غير المؤكدة. (وشرط الصوم) لصحة (الاول) اتفاقا (فقط) على المذهب. *مراقي الفلاح:(265،ط:المكتبة العصرية)* والاعتكاف على ثلاثة أقسام واجب في المنذور وسنة كفاية مؤكدة في العشر الأخير من رمضان ومستحب فيما سواه والصوم شرط لصحة المنذور فقط.