آمدنی و مصارف

سالگرہ کے لیے کیک کے خرید وفروخت کا حکم

فتوی نمبر :
1344
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

سالگرہ کے لیے کیک کے خرید وفروخت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی ہے اس کا بیکری کا کاروبار ہے وہ مختلف قسم کے کیک بناتا ہے تواگر کوئی اس سے سالگرہ کے لیے کیک بنوائے تو کیا اس کے لیے سالگرہ کا کیک بنانا جائز ہے ؟ نیز اگر کوئی شخص کسی کو اپنے سالگرہ کا کیک کھلائے تو اس کا کھانا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ سالگرہ اپنی یوم پیدائش میں خوشی کرنے کا نام ہے ، اگر کوئی صرف خوشی مناتا ہے، اور کوئی خلاف شرع کام نہیں کرتا تو سالگرہ منانے میں کوئی حرج نہیں ، لہذا پوچھی گئی صورت میں بیکری والے کا سالگرہ کے لیے کیک بناناجائز ہے ۔
نیز سالگرہ کا کیک اگر کوئی کھلائے تو اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم : [آل عمران:/3 85]
وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ.

سنن أبي داود:(6/ 144، رقم الحديث : 4031،ط: دار الرسالة العالمية )
عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:، ‌من ‌تشبه ‌بقوم فهو منهم".

سنن ابن ماجه:(4/ 454 ،رقم الحديث : 3359، ط: دار الرسالة العالمية )
عن علي، قال: ‌صنعت ‌طعاما، فدعوت رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء فرأى في البيت تصاوير، فرجع.

الشامية :(6/ 348، ط: دارالفكر)
(قوله وإن علم أولا) أفاد أن ما مر فيما إذا لم يعلم قبل حضوره (قوله لا يحضر أصلا) إلا إذا علم أنهم يتركون ذلك احتراما له فعليه أن يذهب إتقاني (قوله ابن كمال) لم أره فيه نعم ذكره في الهداية قال ط وفيه نظر والأوضح ما في التبيين حيث قال: لأنه لا يلزمه إجابة الدعوة إذا كان هناك منكر اهـ. قلت: لكنه لا يفيد وجه الفرق بين ما قبل الحضور وما بعده، وساق بعد هذا في التبيين ما رواه ابن ماجه أن عليا رضي الله عنه قال: صنعت طعاما فدعوت رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء فرأى في البيت تصاوير فرجع اهـ. قلت: مفاد الحديث أنه يرجع ولو بعد الحضور وأنه ‌لا ‌تلزم ‌الإجابة ‌مع ‌المنكر أصلا تأمل.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
42
فتوی نمبر 1344کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --