آمدنی و مصارف

موبائل کمپنی کا قرض پر اضافی رقم لینا

فتوی نمبر :
583
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

موبائل کمپنی کا قرض پر اضافی رقم لینا

كيا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل موبائل کمپنیاں ۲۴ گھنٹے کے لیے ایمرجنسی لون (قرض) دیتی ہے مثلا : دس روپے دے کر اگلے ریچارج پر بارہ روپے کاٹ لیتی ہے ۔
آیا یہ جائز ہے ؟ یا نہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

موبائل کمپنیوں کا قرض دے کر اضافی رقم کاٹ لینا در اصل سروس کےچارجز کی مد میں ہوتا ہے، لہذا یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا ، اس لیے جائز ہے ۔

حوالہ جات

الشامية :(6/ 5، ط: دارالفكر)
وشرطها ‌كون ‌الأجرة ‌والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.

ايضاً:(6/ 4):
وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
90
فتوی نمبر 583کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --