آمدنی و مصارف

مکان خرید نے کے لیے بینک سے قرض لینے کا حکم

فتوی نمبر :
1435
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

مکان خرید نے کے لیے بینک سے قرض لینے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ ایک صاحب کرایہ کےمکان میں رہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ اپنا ذاتی مکان خرید لے لیکن اتنی گنجائش ان کے پاس نہیں ہے ، اس لیے وہ مکان خریدنے کے لیے بینک سے قرض لینا چاہتا ہے جس میں سود بھی لاگو ہوگا ، اس صورت میں شرعی رو سے اس کے لیے بینک سے سود پر قرض لینا کیساہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قرض پر نفع لینا سود کہلاتا ہے جو شرعا حرام ہے ، لہذا پوچھی گئی صورت میں ان صاحب کا سودی بینک سے مکان خریدنے کے لیے قرض لینا حرام ہے ۔

حوالہ جات

الشامية : (5/ 166، ط: دارالفكر)
(قوله ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة.

مرقاة المفاتيح: (5/ 1926، ط:دارالفكر)
لما ورد " ‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا فهو ربا ". قال مالك: لا تقبل هدية المديون ما لم يكن مثلها قبل أو حدث موجب لها. قال ابن حجر رحمه الله: ونظيره الإهداء للقاضي والأولى له أن يتنزه عنه فإن قيل: فالأولى أن يثيبه بقدر هديته أو أكثر ولقد بالغ إمام المتورعين في زمنه أبو حنيفة رحمه الله حيث جاء إلى دار مدينه ليتقاضاه دينه وكان وقت شدة الحر ولجدار تلك الدار ظل فوقف في الشمس إلى أن خرج المدين بعد أن طال الإبطاء في الخروج إليه وهو واقف في الشمس صابر على حرها غير مرتفق بتلك الظل لئلا يكون له رفق من جهة مدينه، وفيه أن مذهب ذلك الإمام أن قبول رفق المدين حرام كالربا، ومذهبنا كأكثر العلماء أنه لا يحرم إلا إن كان شرط عليه ذلك في صلب العقد الذي وجب ذلك الدين بسببه.

الأشباه والنظائر لابن نجيم: (ص226، ط: دار الكتب العلمية )
‌‌‌كل ‌قرض ‌جر ‌نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن كما في الظهيرية وما روي عن الإمام أنه كان لا يقف في ظل جدار مديونه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
47
فتوی نمبر 1435کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --