آمدنی و مصارف

بینک سے قرض لینا

فتوی نمبر :
155
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

بینک سے قرض لینا

میں بینک سے سود پر قرض لے کر بزنس کر رہا ہوں کاروبار اشیاء خردونوش کا ہے اور بالکل حلال اور جائز ہے ۔
براہ کرم ! یہ بتائیں کہ اس طرح لون (قرض) لینا کیساہے ؟ اس کاروبار سے جو میں بینک سے پیسے لے کر کر رہاہوں حلال ہے یا حرام ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بینک سے سود ی قرض لینا دیناسخت گناہ اور حرام ہے،اس پر توبہ استغفار کرنا لازم ہے، البتہ اگر کسی نے بینک سے سودی قرض لے کر کاروبار کیا تو اس کاروبار سےحاصل شدہ نفع حلال ہے ،تاہم مکمل حلال وطیب بھی نہیں ہوگااور سود ادا کرنے کا گناہ بھی ہوگا،اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ اپنے آپ کو سودی قرض سے محفوظ رکھے ،اور سودی قرض لے کر کاروبار نہ کرے ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم :(البقرة2: 278)
أَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ.

صحيح مسلم: (رقم الحديث :106 - (1598، ط : دار طوق النجاۃ )
عن جابر قال: ‌لعن ‌رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء .

تكملة فتح الملهم : 1/619 ، ط : دارالعلوم كراتشي
قوله ( وموكله ) يعني الذي يودي الربا الي غيره فاثم عقد الربا والتعامل به سواء في كل من الأخذ والمعطي .... ولهذا جاز اعطاءه عندالضرورة الشديدة .


واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
170
فتوی نمبر 155کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --