اگر کوئی شخص یو اے ای میں کام کرتا ہو، لیکن اس وقت پاکستان میں مقیم ہو اور اس پر قرضہ بھی ہو تو وہ فطرہ کس ملک کے حساب سے ادا کرے؟ پاکستان کے حساب سے یا یو اے ای کے حساب سے؟
نیز، کیا کسی مفتی صاحب کا یہ کہنا درست ہے کہ فی الحال قرض کی وجہ سے پاکستان کے حساب سے دے اور بعد میں استطاعت ہو تو یو اے ای کے حساب سے ادا کرے؟
واضح رہے کہ اگر مذکور شخص کے مال میں سے قرض کی رقم منہا کرنے کے بعد بھی اتنا مال باقی رہتا ہو جو صدقۂ فطر کے نصاب کو پہنچتا ہے تو اس پر صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے، لہٰذا اگر وہ صدقۂ فطر گندم، جو، کشمش یا کھجور کے حساب سے ادا کرنا چاہے تو اسے اختیار ہے کہ جہاں چاہے ادا کرے، کیونکہ ان اجناس کی مقدار شریعت میں متعین ہے اور ممالک کی تبدیلی سے اس مقدار میں کوئی فرق نہیں آتا۔
البتہ اگر وہ صدقۂ فطر نقد رقم کے طور پر ادا کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ فی الحال جس ملک میں مقیم ہے، اسی ملک میں ان اجناس کی مقامی قیمت کے مطابق صدقۂ فطر ادا کرے۔
مفتی صاحب کا یہ کہنا کہ فی الحال قرض کی وجہ سے پاکستان کے حساب سے دے اور بعد میں استطاعت ہونے پر یو اے ای کے حساب سے دوبارہ ادا کرے، درست نہیں، کیونکہ صدقۂ فطر ایک ہی مرتبہ واجب ہوتا ہے، دوبارہ ادا کرنا لازم نہیں۔
*الشامية: (2/ 355،ط:دارالفكر)*
والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال، وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح،وأن رءوسهم تبع لرأسه.
(قوله: مكان المؤدي) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه (قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية كما في الشرنبلالية وهو المذهب كما في البحر فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدى عنه.
*الهندية (1/ 190،ط:دارالفکر)*
ثم المعتبر في الزكاة مكان المال حتى لو كان هو في بلد، وماله في بلد آخر يفرق في موضع المال، وفي صدقة الفطر يعتبر مكانه لا مكان أولاده الصغار وعبيده في الصحيح كذا في التبيين. وعليه الفتوى كذا في المضمرات.