میرا سوال صحیح خلوت سے متعلق ہے۔ اگر نکاح شدہ جوڑا (جبکہ ابھی رخصتی یا جسمانی تعلق نہیں ہوا) گھر کے مہمان خانے میں ملے، اور لڑکی کی والدہ گھر میں موجود ہو۔ کمرے کے دروازے بند ہوں لیکن تالا نہ لگا ہو۔ والدہ وقفے وقفے سے یہ یاد دہانی کراتی رہیں کہ گھر کے دیگر افراد کسی بھی وقت آ سکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ جوڑے کو ہر وقت اسی بات کا خوف رہے کہ وہ (والدہ) اندر آ سکتی ہیں۔ کیا ایسی صورتحال میں اس ملاقات کو خلوتِ صحیحہ شمار کیا جائے گا یا نہیں؟
واضح رہے کہ خلوت صحیحہ اس وقت ثابت ہوتی ہے کہ جب میاں بیوی کو ایسی تنہائی میسر ہوجائے کہ جس میں ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں کوئی رکاوٹ اور مانع(حسی ، طبعی یا شرعی) نہ ہو۔
لہذا سوال میں ذکرکردہ صورت میں آپ اور آپ کی بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ ثابتہ ہو چکی ہے۔
*الهندية: (1/ 304،ط:دارالفكر)*
والخلوة الصحيحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء حسا أو شرعا أو طبعا، كذا في فتاوى قاضي خان والخلوة الفاسدة أن لا يتمكن من الوطء حقيقة كالمريض المدنف الذي لا يتمكن من الوطء ومرضها ومرضه سواء هو الصحيح، كذا في الخلاصة أما المرض فالمراد به ما يمنع الجماع أو يلحق به ضرر والصحيح أن مرضه لا يخلو عن تكسر وفتور فكان مانعا سواء لحقه ضرر أم لا، هذا التفصيل في مرضها.
كذا في الكافي إذا خلا بامرأته وأحدهما محرم بفرض أو نفل أو في صوم فرض أو صلاة فرض لا تصح الخلوة وفي صوم القضاء والنذر والكفارة روايتان والأصح أنه لا يمنع الخلوة وصوم التطوع لا يمنع في ظاهر الرواية وصلاة التطوع لا تمنع والحيض والنفاس يمنعان ولو كان معهما نائم أو أعمى لا تصح الخلوة ولو كان معهما صغير لا يعقل أو مغمى عليه لا يمنع الخلوة، وإن كان معهما صغير يعقل بأن أمكنه أن يعبر ما يكون بينهما أو كان معهما أصم أو أخرس لاتصح هكذا في فتاوى قاضي خان...
*الشامية: (3/ 114،ط:دارالفكر)*
(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي) كوجود ثالث عاقل ذكره ابن الكمال، وجعله في الأسرار من الحسي، وعليه فليس للطبعي مثال مستقل (وشرعي) كإحرام لفرض أو نفل..