السلام علیکم مفتی صاحب !
میں نے نو سال پہلے ہاؤس بلڈنگ اینڈ فنانس کمپنی سے گھر خریدنے کے لیے پانچ لاکھ روپے قرض لیا جسے بیس سال کے دوران قسطوں میں ادا کرنا تھا کل رقم جو مجھے واپس کرنے کے لیے کہا گیا وہ پندرہ لاکھ پچاس ہزار روپے تھی ،اس سلسلے میں آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ کیااس طرح سودی قرضہ پر گھر خریدنا جائز ہے ؟ اور اگر گھر فروخت کردیا جائے توادا کردہ سود کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ اسلام نے سود ی کاروباراور اس کے منافع کی کسی صورت اجازت نہیں دی ہے بلکہ سودی معاملات کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعلان جنگ قرار دیا ہے ۔
پوچھی گئی صورت میں سودی قرضہ پر گھر خریدنا جائز ہے ، البتہ فروخت کرنے میں عاقدین جس قیمت پر راضی ہوجائیں اسی پر بیچنا جائز ہے ، اور ادا کردہ سود پر صدق دل سے تو بہ اور استغفار کرتے رہیں ، ان شاء اللہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرمادیں گے ۔
القرأن الكريم: [آل عمران:/3 130]
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَأۡكُلُواْ ٱلرِّبَوٰٓاْ أَضۡعَٰفٗا مُّضَٰعَفَةٗۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ .
التفسير المنير : (4/ 83، ط: دارالفكر)
يا أيها المؤمنون، إياكم أن تأكلوا الربا كما كان الناس يفعلون في الجاهلية، فهو نهي صريح للمؤمنين عن تعاطي الربا وأكله أضعافا مضاعفة، كما كانوا في الجاهلية يقولون: إذا حل أجل الدين: إما أن تقضي وإما أن تربي، فإن قضاه وإلا زاده في المدة، وزاده الآخر في قدر الفائدة، وهكذا كل عام، فربما تضاعف القليل حتى يصير كثيرا مضاعفا. وضم الله تعالى إلى هذا النهي لتأكيد تحريم الربا أمر المؤمنين بالتقوى لعلهم يفلحون في الدنيا والآخرة، ثم زاد النهي تأكيدا فتوعدهم بالنار، وحذرهم منها ثم شدد في الأمر بإطاعة الله والرسول، ثم ندبهم إلى المبادرة إلى فعل الخيرات، والمسارعة إلى نيل القربات.
الدرالمختار: (5/ 166، ط: دارالفكر)
وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام.