نکاح

ٹیکسٹ میسج کے ذریعے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
1908
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ٹیکسٹ میسج کے ذریعے نکاح کا حکم

مفتی صاحب!
سنا ہے کہ نکاح کی شرائط میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایجاب وقبول کی مجلس ایک ہو، جس میں متعاقدین (لڑکا لڑکی یا ان کے وکیل ) موجود ہوں ، اس حوالے سے پوچھنا یہ ہے کہ اگر لڑکا اور لڑکی ٹیکسٹ میسج کے ذریعے دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرلیں تو نکاح منعقد ہوگا یا نہیں ؟ جب کہ مجلس ایک نہیں ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ نکاح کی مجلس میں گواہوں کے سامنے زوجین دونوں خود یا ان کے وکیل یا کم از کم کسی ایک کا وکیل موجود ہو، اگر ان میں سے کوئی موجود نہ ہو تو نکاح نہ ہوگا، لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ مجلس ایک نہیں ہے اس لیے یہ نکاح منعقد نہیں ہو گا۔

حوالہ جات

*الشامية: (3/ 14، ط: دارالفكر)*
(قوله: ‌لو ‌حاضرين) احترز به عن كتابة الغائب لما في البحر عن المحيط الفرق بين الكتاب والخطاب أن في الخطاب لو قال: قبلت في مجلس آخر لم يجز وفي الكتاب يجوز؛ لأن الكلام كما وجد تلاشى فلم يتصل الإيجاب بالقبول في مجلس آخر فأما الكتاب فقائم في مجلس آخر، وقراءته بمنزلة خطاب الحاضر فاتصل الإيجاب بالقبول فصح. اهـ.
*البحر الرائق : (3/ 90، ط: دارالكتاب الاسلامي )*
وفي المحيط الفرق ‌بين ‌الكتاب ‌والخطاب أن في الخطاب لو قال: قبلت في مجلس آخر لم يجز، وفي الكتاب يجوز؛ لأن الكلام كما وجد تلاشى فلم يتصل الإيجاب بالقبول في مجلس آخر فأما الكتاب فقائم في مجلس آخر، وقراءته بمنزلة خطاب الحاضر فاتصل الإيجاب بالقبول فصح. اهـ.

*الهندية:(269/1،ط: دارالفكر)*
(ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
52
فتوی نمبر 1908کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --