روزہ کے مفسدات و مکروهات

دوران روزہ ناک میں تیل لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
1912
عبادات / روزہ و رمضان / روزہ کے مفسدات و مکروهات

دوران روزہ ناک میں تیل لگانے کا حکم

روزے کی حالت میں ناک کے اندر تیل لگانا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ روزے کی حالت میں کسی بھی قسم کا بہنےوالا مادہ دوا، تیل وغیرہ ناک میں ڈالنے سے اس کا اثر دماغ تک پہنچ جائے یا ناک سے حلق میں چلا جائے تو روزہ فاسد ہو جائے گا اور اگر اس کا اثر حلق یا دماغ تک نہ پہنچے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا، اس لیےحتیاط کرنا بہتر ہے، تاکہ روزے کی صحت کے حوالے سے کسی قسم کا اشتباہ نہ رہے۔

حوالہ جات

*مختصر القدوري:(ص63،ط: دار الكتب العلمية)*
ومن ‌احتقن ‌أو ‌استعط أوقطر في أذنيه أو داوى جائفة أو آمة بدواء فوصل إلى جوفه أو دماغه أفطر.

*بداية المبتدي:(ص40،ط:محمد علي صبح)*
ومن ‌احتقن ‌أو ‌استعط أو أقطر في أذنه أفطر.
*الهداية:(1/ 123،ط: دار احياء التراث العربي)*
"ومن ‌احتقن ‌أو ‌استعط أو أقطر في أذنه أفطر" لقوله صلى الله عليه وسلم "الفطر مما دخل" ولوجود معنى الفطر وهو وصول ما فيه صلاح البدن إلى الجوف.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
115
فتوی نمبر 1912کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --