کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ایک مسلمان عورت ہوں اور ایک غیر مسلم کے ہاں کھانا پکانے کا کام کرتی ہوں مجھے ان کے لیے سور کا گوشت پکانا پڑتا ہے جبکہ میں خودسور کا گوشت استعمال نہیں کرتی، صرف انہیں پکا کر دیتی ہوں
پوچھنا یہ ہے کہ میرا اپنے مالک کے لیے سور کا گوشت پکانا جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ خنزیر نجس العین ہے،اور اس کا گوشت کھانا یا پکانا یا اس کو کسی طریقہ سے استعمال میں لانا ناجائز اور حرام ہے،لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا اپنے مالک کے لیے سور کا گوشت پکانا ناجائز اور حرام ہے ۔
القرأن الكريم : [المائدة:/5 2]
وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ .
سنن الترمذي: (2/ 567، رقم الحديث : 1295،دار الغرب الإسلامي)
عن أنس بن مالك قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له.