کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء

مچھلی اگر زندہ پکڑنے کے بعد مرجائے توا س کے کھانے کا حکم

فتوی نمبر :
2017
حظر و اباحت / حلال و حرام / کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء

مچھلی اگر زندہ پکڑنے کے بعد مرجائے توا س کے کھانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے کچھ دوست مچھلی کا شکار کر کے اسے پانی سے زندہ پکڑ کر لائے پھر اس کے منہ میں رسی ڈال کر اسے پانی میں لٹکا دیا اور تقریبا دو گھنٹے لٹکائے رکھا پھر جب گھر جانے لگے تو مچھلی کو پانی سے نکال دیا جب نکالا، تو پتہ چلا کہ مچھلی مر چکی ہے، اب پوچھنا یہ ہے کہ اس مچھلی کا کھانا حلال ہے یا حرام ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مذکورہ مچھلی حلال ہے، اس کا کھانا جائز ہے ،اس میں کوئی حرج نہیں ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (6/ 306، ط: دارالفكر)
(ولا) يحل (‌حيوان ‌مائي ‌إلا ‌السمك) الذي مات بآفة ولو متولدا في ماء نجس ولو طافية مجروحة وهبانية (غير الطافي) على وجه الماء الذي مات حتف أنفه وهو ما بطنه من فوق .

الموسوعة الفقهية الكويتية: (5/ 128، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية )
فأما الذي ‌قتل ‌في ‌الماء ‌قتلا بسبب حادث فلا فرق بينه وبين ما صيد بالشبكة وأخرج حتى مات في الهواء. وإذا ابتلعت سمكة سمكة أخرى فإن السمكة الداخلة تؤكل، لأنها ماتت بسبب حادث هو ابتلاعها.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
37
فتوی نمبر 2017کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --