کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء

افیون کے چھلکے کھانا

فتوی نمبر :
511
حظر و اباحت / حلال و حرام / کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء

افیون کے چھلکے کھانا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ افیون کے چھلکے کھانے کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ افیون کے چھلکے کا استعمال نشہ کی غرض سے حرام ہے،البتہ بوقت ضرورت اور بقدر حاجت بطور دوا کے استعمال کی گنجائش ہے۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (6/ 454، ط:دارالفكر)
(وصح ‌بيع ‌غير ‌الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.

الفقه الإسلامي وأدلته: (7/ 5505، ط:دارالفكر)
ويحل القليل النافع من البنج وسائر المخدرات ‌للتداوي ونحوه؛ لأن حرمته ليست لعينه، وإنما لضرره .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
93
فتوی نمبر 511کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --