نکاح

اپنی بیٹی اور خالہ کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2152
معاملات / احکام نکاح / نکاح

اپنی بیٹی اور خالہ کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عبدالرحمن کی علاتی خالہ میوا خان کے نکاح میں ہے اوربیٹی کا نکاح بھی میوا خان کے ساتھ کروانا چاہتا ہے ، کیا عبدالرحمن اپنی بیٹی اور اپنی علاتی خالہ کے ساتھ میوا خان کے نکاح میں جمع کرسکتا ہے یا نہیں؟ کیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ پوچھی گئی صورت میں عبدالرحمن کی بیٹی کا نکاح ان کے خالہ کے شوہر میواخان کے ساتھ کرنا جائزنہیں ۔

حوالہ جات

الهندية: (1/ 273، ط: دارالفكر)
وأما الخالات ‌فخالته ‌لأب وأم وخالته لأب وخالته لأم وخالات آبائه وأمهاته.

البحر الرائق: (3/ 104، ط: دارالكتاب الاسلامي )
(قوله وبين امرأتين، أية فرضت ذكرا حرم النكاح) أي ‌حرم ‌الجمع ‌بين امرأتين إذا كانتا بحيث لو قدرت إحداهما ذكرا حرم النكاح بينهما أيتهما كانت المقدرة ذكرا كالجمع بين المرأة وعمتها والمرأة وخالتها والجمع بين الأم والبنت نسبا أو رضاعا لحديث مسلم «لا تنكح المرأة على عمتها ولا على خالتها ولا على ابنة أخيها ولا على ابنة أختها.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
20
فتوی نمبر 2152کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --