السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں کراچی کی رہائشی ہوں، کراچی ہی میں پیدائش ہوئی یہیں پلی بڑھی ہوں گیارہوں جماعت اور ترجمہ قرآن مجید اور ضروری مسائلِ دینیہ کی تعلیم حاصل کررہی ہوں۔ اور الحمدللہ شرعی پردہ کرتی ہوں۔
دو سال قبل جب میں تیرہ سال کی تھی، میرے والد صاحب اپنے آبائی گاؤں الائی تشریف لے گئے تھے، جہاں انہوں نے میرے چچا سے ان کی بیٹی کا رشتہ میرے بڑے بھائی کے لیے مانگا جسے میرے چچا نے اس شرط پر قبول کیا کہ میرے ابو اپنی بیٹی یعنی میرا رشتہ چچا کے بیٹے کے ساتھ طے کریں گے، اور اس بات کو میرے والد صاحب نے قبول کیا، اور مجھے سے پوچھے بغیر، اور اجازت کیے بغیر بلکہ اطلاع دیے بغیر میرا رشتہ میرے چچا زاد کے ساتھ طے کرکے نکاح کروا دیا۔ مجھے جب معلوم ہوا تو میں نے اس رشتے پر عدمِ رضامندی کا اظہار کیا، اور باوجود یہ کہ میرے والد صاحب میرے بڑے اور خیر خواہ ہیں، بوجوہ میں اس رشتے پر راضی نہیں ہوں:
1) شہر سے نکل کر ایسے پس ماندہ گاؤں میں رہنا جہاں زندگی کی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں۔
2) لڑکے کا عمر میں مجھ سے کافی بڑا اور دینی و دنیوی تعلیم سے مکمل نا آشنا ہونا ۔
3) میرا رشتہ میرے بھائی کے رشتے کے بدلے میں ہونا، جو خاندان کے گزشتہ رشتوں کو دیکھ کر ان اندیشوں کو جنم لیتے ہیں کہ میرے بھائی اور بھابھی کے آپس کے مسائل عمر بھر میری زندگی پر بھی اثر انداز ہوں گے۔
4) گاؤں میں پردے کے مسائل ہونا، بلکہ رشتے داروں کا سامنے نہ آنے پر برہمی اور ناراضگی کا اظہار کرنا۔ وغیرہ
ان وجوہات کی بنا پر میں اس رشتے سے راضی نہیں ہوں اور آپ سے شریعت کی روشنی میں اپنے مسئلے کا حل دریافت کرتی ہوں کہ
1) کیا میرا یہ رشتہ جو میری اجازت کے بغیر ہوا اور میں جس پر راضی نہیں ہوں، منعقد ہوگیا؟
2) اگر منعقد ہوگیا تو کیا میں اسے قبول کرنے سے انکار کرسکتی ہوں ۔
براہِ کرم میرے سوال کا تشفی بخش جواب دے کر ممنون و مشکور فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا
رابعہ زبیر
والد پر اپنی عاقلہ بالغہ بیٹی کا رشتہ طے کرتے ہوئے اس کی اجازت طلب کرنا لازم ہے، اگر باپ نے اپنی بیٹی کا نکاح اس سے اجازت لیے بغیر کردیا تو یہ نکاح منعقد نہ ہوگا، بلکہ اس لڑکی کی اجازت پر موقوف ہوگا، اگر لڑکی اجازت دے دے تو نکاح ہو جائے گا، ورنہ نہیں ۔
پوچھی گئی صورت میں اگر لڑکی مذکورہ وجوہات کی بنا پر رشتے سے انکار کر دے تو اس کی رضامندی کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوگا۔
*"مرقاة المفاتيح:(2053/5،ط: دار الفکر)*
"والتحصين المطلوب بالنكاح لا يحصل إلا بالرغبة في المنكوحة."
*الهندية":(287/1،ط:دار الفکر،بیروت)*
"لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل...وإن استأذن الولي البكر البالغة فسكتت فذلك إذن منها...زوجها ثم بلغها الخبر فسكتت فالسكوت منها رضا."
*"بدائع الصنائع:(241/2،ط:دار الکتب العلمیة)*
"وأما ولاية الحتم والإيجاب والاستبداد..فلا تثبت هذه الولاية على البالغ العاقل ولا على العاقلة البالغة...وعلى هذا يبتنى أن الأب والجد لا يملكان إنكاح البكر البالغة بغير رضاها عندنا."
*المبسوط للسرخسي:(3،1، ط: دارالفکر)*
"وإذا زوج الرجل ابنته الكبيرة، وهي بكر فبلغها فسكتت فهو رضاها، والنكاح جائز عليها وإذا أبت وردت لم يجز العقد عندنا...وإن سكتت حين بلغها عقد الأب فالنكاح جائز عليها؛ لأن الشرع جعل السكوت منها رضا؛ لعلة الحياء فإن ذلك يحول بينها وبين النطق فتكون بمنزلة الخرساء فكما تقوم إشارة الخرساء مقام عبارتها فكذلك يقام سكوت البكر مقام رضاها."