نکاح

آن لائن نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
2286
معاملات / احکام نکاح / نکاح

آن لائن نکاح کا حکم

مفتی صاحب
نیٹ پر آن لائن نکاح ہوتا ہے یا نہیں؟اگر نہیں ہوتا تو درست نکاح کس طرح ہوگا جزاکم اللہ خیرا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہو، اس مجلس میں فریقین خود یا ان کے وکیل موجود ہوں اور دو گواہ اسی مجلس میں ایجاب و قبول کے الفاظ سنیں، اگر فریقین میں سے کوئی خود مجلسِ نکاح میں حاضر نہ ہو تو وہ اپنا وکیل مقرر کرسکتا ہے، جو مؤکل کی طرف سے اس کا نام اور ولدیت بتا کر ایجاب یا قبول کرے، اس طرح نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔
نیز ایک ہی شخص مرد اور عورت دونوں کی طرف سے وکیل بن سکتا ہے۔
ویڈیو کال کے ذریعے ایجاب و قبول کرنے سے مجلس ایک نہ ہونے کی وجہ سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، البتہ اگر ویڈیو یا فون کال پر کسی شخص کو وکیل بنایا جائے اور وہ وکیل ایک ہی مجلس میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرلے تو ایسی صورت میں نکاح شرعاً جائز اور درست ہوگا۔
پوچھی گئی صورت میں چونکہ لڑکی کا وکیل اور لڑکا ایک ہی مجلس میں موجود تھے، جس میں گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول ہوا ہے، لہذا یہ نکاح منعقد ہوچکا ہے۔

حوالہ جات

*الدر مع الرد:(14/3،ط: دارالفكر)*
ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين.
(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا.

*الهندية:(294/1،ط: دارالفكر)*
يصح التوكيل بالنكاح، وإن لم يحضره الشهود، كذا في التتارخانية ناقلا عن خواهر زاده امرأة قالت لرجل: زوجني ممن شئت لا يملك أن يزوجها من نفسه، كذا في التجنيس والمزيد رجل وكل امرأة أن تزوجه فزوجت نفسها منه لا يجوز، كذا في محيط السرخسي وإذا وكل رجلا أن يزوجه امرأة بعينها ببدل سماه فزوجها الوكيل لنفسه بذلك البدل جاز النكاح للوكيل، كذا في المحيط.

*الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:(6726/9،ط: دارالفكر)*
يرى الحنفية: أنه يصح التوكيل بعقد الزواج من الرجل والمرأة إذا كان كل منهما كامل الأهلية أي بالغا عاقلا حرا؛ لأن للمرأة عندهم أن تزوج نفسها، فلها أن توكل غيرها في العقد.

*الدر المختار:(96/3،ط: دارالفکر)*
(ويتولى طرفي النكاح واحد) بإيجاب يقوم مقام القبول في خمس صور كأن كان وليا أو وكيلا من الجانبين أو أصيلا من جانب ووكيلا أو وليا من آخر، أو وليا من جانب وكيلا من آخر كزوجت بنتي من موكلي (ليس) ذلك الواحد (بفضولي) ولو (من جانب) وإن تكلم بكلامين على الراجح لأن قبوله غير معتبر شرعا لما تقرر أن الإيجاب لا يتوقف على قبول غائب.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2286کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --