میرا بیٹا بہت چھوٹا ہے، جس کی وجہ سے میرے لیے نماز مکمل کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے، شروع میں میں نے بیس رکعت تراویح پڑھی، پھر بارہ رکعت پڑھتی رہی، لیکن اب وہ بھی میرے لیے مشکل ہو گیا ہے۔ میں صرف بیٹے کو سلا کر عشاء کی نماز ہی ادا کر پاتی ہوں۔ ایسی صورت میں اگر میں تراویح نہ پڑھ سکوں تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا؟
رمضان المبارک کی راتوں میں نمازِ تراویح مردوں کی طرح عورتوں پر بھی سنتِ مؤکدہ ہے، جس طرح عاقل و بالغ مسلمان مرد کے لیے بیس رکعات تراویح کی پابندی اہم ہے، اسی طرح عاقلہ و بالغہ مسلمان عورت کے لیے بھی یہ عبادت نہایت فضیلت اور اہتمام کی مستحق ہے، اگر کوئی عورت بلا عذرِ شرعی کبھی کبھار تراویح ترک کر دے تو یہ کوتاہی شمار ہوگی اور اگر اس کو معمول بنا لے تو گناہ کی مستحق ہوگی۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں مذکورہ عورت کو چاہیے کہ بچے کوسلا کر تروایح کی نماز پڑھے۔
ملتقى الأبحر:(202/1،ط:دار الكتب العلمية)* التراويح سنة مؤكدة في كل ليلة من رمضان بعد العشاء قبل الوتر وبعده بجماعة عشرون ركعة بعشر تسليمات وجلسة بعد كل أربع بقدرها والسنة فيها الختم مرة فلا يترك لكسل القوم وتكره قاعدا مع القدرة على القيام ويوتر بجماعة في رمضان فقط. *الدرالمختار:(43/2،ط: دارالفكر)* (التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعا (ووقتها بعد صلاة العشاء) إلى الفجر (قبل الوتر وبعده) في الأصح، فلو فاته بعضها وقام الإمام إلى الوتر أوتر معه ثم صلى ما فاته. *نور الإيضاح:(157/1،ط:المكتبة العصرية)* التراويح سنة.....على الرجال والنساء وصلاتها بالجماعة سنة كفاية وقتها بعد صلاة العشاء ويصح تقديم الوتر على التراويح وتأخيره عنها ويستحب تأخير التراويح إلى ثلث الليل أو نصفه،....