السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
کیا تراویح بلا عذر چھوڑ سکتے ہیں؟ مطلب کوئی پڑھے یا نہ پڑھے اور کیا مرد اور عورت سب کے لیے ایک جیسا حکم ہے ؟
اور آٹھ رکعت تراویح پڑھ سکتے ہیں ؟
واضح رہے کہ نمازِ تراویح مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے سنت مؤکدہ ہے اور بلا کسی شرعی عذر کے اسے ترک کرنا باعثِ گناہ ہے، تاہم مردوں کے حق میں اسے جماعت کے ساتھ ادا کرنا سنتِ کفایہ ہے؛ یعنی اگر محلے کے چند افراد جماعت قائم کر کے یہ سنت ادا کر لیں تو سب کی طرف سے ذمہ داری پوری ہو جاتی ہے، لیکن اگر کوئی بھی اس کا اہتمام نہ کرے تو سب کے سب گنہگار ہوں گے۔
نیز واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تراویح کی بیس رکعات ثابت ہیں اور اس پر تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع ہے اور تمام فقہاء کے نزدیک بھی بیس رکعت تراویح سنت مؤکدہ ہے اور اس کا تارک گناہ گار ہے، لہذا ہمیں چاہیے کہ ہمیشہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور آئمہ اربعہ رحمہم اللہ کے اجماع کو مضبوطی سے تھامیں، سنت کو پورے اہتمام سے ادا کریں۔
*مصنف ابن أبي شيبة(2/ 163،رقم الحدیث:7680،ط:الرشد)*
حدثنا أبو بكر قال: ثنا وكيع، عن سفيان، عن أبي إسحاق، عن عبد الله بن قيس، عن شتير بن شكل: «أنه كان يصلي في رمضان عشرين ركعة والوتر»
*بدائع الصنائع:(288/1،ط:دارالكتب العلمية)*
والصحيح قول العامة لما روي أن عمر ﵁ جمع أصحاب رسول الله ﷺ في شهر رمضان على أبي بن كعب فصلى بهم في كل ليلة عشرين ركعة، ولم ينكر أحد عليه فيكون إجماعا منهم على ذلك
*مرقاة المفاتيح:(973/3،ط:دارالفكر )*
أجمع الصحابة على أن التراويح عشرون ركعة
*الشامية:(43/2،ط:دارالفكر)*
(التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعا
*ايضا:(45/2،ط:دارالفكر)*
قوله وهي عشرون ركعة) هو قول الجمهور وعليه عمل الناس شرقا وغربا.
*الدرالمختارمع ردالمحتار:(2/ 43،ط:دارالفكر)**
(التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال والنساء) إجماعا.
*أيضاً: (2/ 45):*
«(والجماعة فيها سنة على الكفاية) في الأصح، فلو تركها أهل مسجد أثموا إلا لو ترك بعضهم»
(قوله والجماعة فيها سنة على الكفاية إلخ) أفاد أن أصل التراويح سنة عين، فلو تركها واحد كره، بخلاف صلاتها بالجماعة فإنها سنة كفاية، فلو تركها الكل أساءوا؛ أما لو تخلف عنها رجل من أفراد الناس وصلى في بيته فقد ترك الفضيلة، وإن صلى أحد في البيت بالجماعة لم ينالوا فضل جماعة المسجد وهكذا في المكتوبات كما في المنية وهل المراد أنها سنة كفاية لأهل كل مسجد من البلدة أو مسجد واحد منها أو من المحلة؟ ظاهر كلام الشارح الأول. واستظهر ط الثاني. ويظهر لي الثالث، لقول المنية: حتى لو ترك أهل محلة كلهم الجماعة فقد تركوا السنة وأساءوا. اهـ.