آمدنی و مصارف

گاڑی میں بچ جانے والے ڈیزل کو آگے فروخت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2394
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

گاڑی میں بچ جانے والے ڈیزل کو آگے فروخت کرنے کا حکم

ہم کچھ دوست ایک کمپنی میں کام کرتے ہیں بجلی کا کام ہے اور ہر ایک کو ایک علاقہ حوالہ کیا گیا ہے، کمپنی اندازے سے ہم میں سے ہر ایک کو 20 لیٹر ڈیزل دیتی ہے، ان کو یہ معلوم ہے کہ اس سے ہر ایک اپنے علاقے کو کور کرسکتا ہے، پھر ہم ڈیزل بچاتے ہوئے گاڑی چلاتے ہیں، جس کا ہمیں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ہمارے لیے کچھ ڈیزل بچ جاتا ہے، جسے ہم بیچ دیتے ہیں، حالانکہ کمپنی کی طرف سے بچے ہوئے ڈیزل کو بیچنے کی نہ ہمیں اجازت ملی ہے اور نہ ہی ہمیں منع کیا گیا ہے تو کیا اس طرح ڈیزل کا بیچنا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ملازم کو کمپنی کی طرف ڈیزل کمپنی کے کام کے لیے ہی دیا جاتا ہے، لہذا اس کو کمپنی ہی کے کام میں استعمال کیا جائے۔
پوچھی گئی صورت میں بچ جانے والے ڈیزل کو آگے فروخت کرنے سے کمپنی کے مالک سے واضح اجازت حاصل کرنا ضروری ہے، مالک کی اجازت کے بغیر اسے اپنے فائدے کے لیے فروخت کرنا شرعا جائز نہیں۔

حوالہ جات

*مسند احمد:(299/34،رقم الحدیث:20695:ط: مؤسسة الرسالة)*
حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، أخبرنا علي بن زيد، عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله ﷺ في أوسط أيام التشريق، أذود عنه الناس، فقال: «يا أيها الناس، هل تدرون في أي يوم أنتم؟ وفي أي شهر أنتم (٢)؟ وفي أي بلد أنتم؟» قالوا: في يوم حرام، وشهر حرام، وبلد حرام، قال: «فإن دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، إلى يوم تلقونه»، ثم قال: «اسمعوا مني تعيشوا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه.... الخ

*مسند أحمد: (39/ 19 ، رقم الحديث : 23605، ط: مؤسسة الرسالة )*
عن أبي حميد الساعدي، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لا يحل للرجل ‌أن ‌يأخذ ‌عصا ‌أخيه بغير طيب نفسه " وذلك لشدة ما حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم من مال المسلم على المسلم .

*الھندیة:(167/2،ط: دار الفكر)*
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق.

*الدرالمختار:(617/1،ط: دار الفکر)*
لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته إلا في مسائل مذكورة في الأشباه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
1
فتوی نمبر 2394کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --