مفتی صاحب!
جب لڑکی یا لڑکے سے زبردستی ایجاب وقبول کروائیں تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے یا نہیں؟
نیز دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہو جاتے ہیں یا نہیں؟ جزاکم اللہ
واضح رہے کہ نکاح کے معاملے میں شریعتِ مطہرہ نے ولی کو اس بات کا پابند بنایا ہے کہ عاقل و بالغ لڑکے اور لڑکی کا نکاح ان کی رضا و رغبت کے بغیر نہ کیا جائے، لہٰذا اگر کسی صورت میں محض زبردستی دستخط یا انگوٹھا لگوا لیا جائے، جبکہ ایجاب و قبول سرے سے واقع ہی نہ ہو تو ایسی صورت میں نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
البتہ اگر زبردستی زبان سے ایجاب و قبول کے الفاظ کہلوا لیے جائیں تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔
پوچھی گئی صورت میں اگر زبانی ایجاب و قبول کے الفاظ کہے گئے ہیں تو نکاح منعقد ہوچکا ہے اور لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے لیے حلال ہیں، لہذا بلا وجہ شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔
*الشامية:(3/ 21،ط:دارالفكر)*
(قوله: ليتحقق رضاهما) أي ليصدر منهما ما من شأنه أن يدل على الرضا إذ حقيقة الرضا غير مشروطة في النكاح لصحته مع الإكراه والهزل رحمتي۔۔۔۔۔وأما ما ذكر من أن نكاح المكره صحيح إن كان هو الرجل، وإن كان هو المرأة فهو فاسد فلم أر من ذكره، وإن أوهم كلام القهستاني السابق ذلك، بل عباراتهم مطلقة في أن نكاح المكره صحيح كطلاقه وعتقه مما يصح مع الهزل، ولفظ المكره شامل للرجل والمرأة.
*أيضا :(3/ 236)*
(قوله نكاح) يشمل ما إذا أكره الزوج أو الزوجة على عقد النكاح كما هو مقتضى إطلاقهم.
*الهندية:(1/ 287،ط:دارالفكر)*
لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج.