مفتی صاحب! ہماری مسجد میں امام صاحب اور دیگر لوگ مل کر نماز کے بعد ہر روز سورہ یسین کی تلاوت کرتے ہیں اس طرح کرنا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ سورۂ یٰسین کی تلاوت فضیلت اور برکت کا باعث ہے، حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ جو شخص دن کے ابتدائی حصے میں سورۂ یٰسین کی تلاوت کرتا ہے، اس کی حاجات پوری کی جاتی ہیں۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جو شخص صبح کے وقت سورۂ یٰسین پڑھتا ہے، اسے شام تک خوشی حاصل ہوتی ہے اور جو رات کے ابتدائی حصے میں اس کی تلاوت کرتا ہے، اسے صبح تک خوشی حاصل ہوتی ہے، البتہ نماز کے بعد اجتماعی طور پر سورۂ یٰسین کی تلاوت کو ضروری سمجھنا اور امام کا مقتدیوں کو اس کی تلاوت پر مجبور کرنا درست نہیں ہے۔ اگر نماز کے بعد امام اور مقتدیوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہو کہ چاہے سورۂ یٰسین پڑھے، چاہے قرآنِ کریم کی کوئی دوسری سورت پڑھے اور چاہے تلاوت کیے بغیر چلا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
مسند الدارمي : (4/ 2150،ط:دار المغني للنشر والتوزيع) 3461 - حدثنا الوليد بن شجاع، حدثني أبي، حدثني زياد بن خيثمة، عن محمد بن جحادة، عن عطاء بن أبي رباح، قال: بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من قرأ يس في صدر النهار، قضيت حوائجه. 3462 - حدثنا عمرو بن زرارة، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا راشد أبو محمد الحماني، عن شهر بن حوشب، قال: قال ابن عباس: «من قرأ يس حين يصبح، أعطي يسر يومه حتى يمسي، ومن قرأها في صدر ليله، أعطي يسر ليلته حتى يصبح. مرقاة المفاتيح: (2/ 755،ط:دار الفكر) قال الطيبي: وفيه أن من أصر على أمر مندوب، وجعله عزما، ولم يعمل بالرخصة فقد أصاب منه الشيطان من الإضلال فكيف من أصر على بدعة أو منكر؟