آمدنی و مصارف

بینک سے قرض لینا

فتوی نمبر :
530
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

بینک سے قرض لینا

سوال : میں بینک سے سود پر قرض لے کر بزنس کر رہا ہوں کاروبار اشیاء خردونوش کا ہے اور بالکل حلال اور جائز ہے ۔
براہ کرم ! یہ بتائیں کہ اس طرح لون (قرض) لینا کیساہے ؟ اس کاروبار سے جو میں بینک سے پیسے لے کر کر رہاہوں حلال ہے یا حرام ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ بینک سے سود پر قرض لینا جائز نہیں ہے ،البتہ بینک کے پیسوں سے حلال کاروبار کرکے منافع حاصل کرنا حلال ہے، لیکن سود لینے کا گناہ ہوگا ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم :[البقرة: 278]
أَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ.

صحيح مسلم: (رقم الحديث :106 - (1598، ط : دار الطباعة العامرة )
عن جابر قال: ‌لعن ‌رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا وموكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء .

تكملة فتح الملهم : 1/619 ، ط : دارالعلوم كراتشي
قوله ( وموكله ) يعني الذي يودي الربا الي غيره فاثم عقد الربا والتعامل به سواء في كل من الأخذ والمعطي .... ولهذا جاز اعطاءه عندالضرورة الشديدة .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
99
فتوی نمبر 530کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --