آمدنی و مصارف

سانپوں کی خرید وفروخت

فتوی نمبر :
572
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

سانپوں کی خرید وفروخت

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو منہ والے سانپ کی خرید وفروخت کرنا اور اسی طرح اس کی خريد وفروخت مين دلالی کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سانپ یا کسی بھی زہریلے جانور کی محض شو ق کے لیے خرید وفروخت کرنا جائز نہیں ہے، تاہم اگر کسی دوا وغیرہ میں استعمال مقصود ہوتواس کی خرید وفروخت اور دلالی(بروكری) کی گنجائش ہے ۔

حوالہ جات

الشامية :(5/ 68، ط:دارالفكر)
قوله كحيات) في الحاوي الزاهدي: يجوز ‌بيع ‌الحيات إذا كان ينتفع بها للأدوية .

الهندية: (3/ 114، ط: دارالفكر)
ولا يجوز ‌بيع ‌هوام ‌الأرض كالحية والعقرب والوزغ وما أشبه ذلك... يجوز ‌بيع ‌الحيات ‌إذا كان ينتفع بها في الأودية وإن كان لا ينتفع بها لا يجوز .

جدید تجارت:(ص 67 ، ط: ماریہ اکیڈمی کراچی )
سوائے خنزیر کے زندہ سب جانوروں کی بیع کسی فائدے کے لیے درست ہے خواہ بری ہویابحری چھوٹے ہوں یا بڑے حتی کے کتے ، سانپ اورچیتے وغیرہ کی بیع بھی جائز ہے ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
98
فتوی نمبر 572کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --