آمدنی و مصارف

فتوی دینے پر اجرت لینا

فتوی نمبر :
704
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

فتوی دینے پر اجرت لینا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مفتی صاحب فتویٰ دینے بیٹھتا ہے تو اس پر اس کا اجرت لینا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ دین کا کوئی بھی کام خواہ درس وتدریس ہو یا امامت وخطابت ، اگر ایک عالم دین اس کے لیے اپنا وقت فارغ کرکے اس کام کو سرانجام دیتا ہے تو اس پر اجرت لینا جائز ہے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار: (6/ 92،ط:دارالفکر)
«(‌يستحق ‌القاضي ‌الأجر ‌على ‌كتب ‌الوثائق) والمحاضر والسجلات (قدر ما يجوز لغيره كالمفتي) فإنه يستحق أجر المثل على كتابة الفتوى؛ لأن الواجب عليه الجواب باللسان دون الكتابة بالبنان، ومع هذا الكف أولى احترازا عن القيل والقال وصيانة لماء الوجه عن الابتذال بزازية.

«الموسوعة الفقهية الكويتية» (32/ 42،ط:دارالسلاسل)
«الأولى ‌للمفتي ‌أن ‌يكون ‌متبرعا بعمله ولا يأخذ عليه شيئا.وإن تفرغ للإفتاء فله أن يأخذ عليه رزقا من بيت المال على الصحيح عند الشافعية، وهو مذهب الحنابلة... وأجاز الحنفية وبعض الشافعية أخذ المفتي الأجرة على الكتابة، لأنه كالنسخ .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
90
فتوی نمبر 704کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --