آمدنی و مصارف

بیل کو جفتی کے لیے کرایہ پر دینا

فتوی نمبر :
795
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

بیل کو جفتی کے لیے کرایہ پر دینا

اگر کوئی شخص بیل پال کے یہ کہے کہ میں نے صرف اس کو نسل بڑھانے کے لیے رکھ لیا ہےتو آیا اس پر پیسے لینا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نر جانور کو جفتی کرنے اور نسل بڑھانے کے لیے کرایہ پر دینا اور اس جفتی کی اجرت لینا ناجائز ہے، لہذا اس نیت سے بیل رکھنا اور اس پر اجرت لینا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

سنن الترمذي: (3/ 564،ط:الحلبي)
" عن نافع، عن ابن عمر قال: «نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل». وفي الباب عن أبي هريرة، وأنس، وأبي سعيد: حديث ابن عمر حديث حسن صحيح، والعمل على هذا عند بعض أهل العلم، وقد رخص بعضهم في قبول الكرامة على ذلك.
و عن أنس بن مالك، أن رجلاً من كلاب سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن عسب الفحل؟ «فنهاه» ، فقال: يا رسول الله، إنا نطرق الفحل فنكرم، «فرخص له في الكرامة»".

شرح مختصر الطحاوي للجصاص (3/ 97،ط:دارالبشائر الاسلامیة)
"قال: (ولايجوز بيع عسب الفحل).
قال أحمد: يعني ما يلقح، وذلك لأنه من الملاقيح، وقد نهى عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم. وروى ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم "نهى عن عسب الفحل". وقال جابر: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع ضرب الفحل".

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
86
فتوی نمبر 795کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --